سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 566

سناتن دھرم — Page 475

روحانی خزائن جلد ۱۹ سناتن دھرم آیا کہہ دیتے ہیں غرض تو ہنسی ٹھٹھا ہے نہ تحقیق ۔ بعض سرسری نظر سے خدا کی کتاب کو دیکھ کر بغیر اس کے جو پوری سمجھ سے کام لیں فی الفور اعتراض کر دیتے ہیں۔ خدا کی کلام میں (1) کئی جگہ استعارہ ہوتا ہے کئی جگہ مجاز ہوتا ہے اور کئی جگہ حقیقت کا دکھلا نا مقصود ہوتا ہے پس جب پورا علم نہ ہو اور اس کے ساتھ اپنا دل صاف نہ ہو تو اعتراض کرنا جہالت ہے۔ خدا کے کلام کے صحیح معنے سمجھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا سے ملتے ہیں۔ ایک شخص سرا پا دنیا کی پلیدی میں غرق آنکھیں اندھی اور دل ناپاک ہے وہ اس حالت میں خدا کے کلام پر کیا اعتراض کرے گا۔ اوّل چاہئے کہ اپنے دل کو پاک بناوے، نفسانی جذبات سے اپنے تئیں الگ کرے پھر اعتراض کرے۔ مثلاً قرآن شریف میں لکھا ہے۔ مَنْ كَانَ في هذة أعمى فَهُوَ فِى الْآخِرَةِ أَعْلَى یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ اب ایک ایسا معترض جس کو خدا کے کلام کا نشاء معلوم نہیں یہ اعتراض کرے گا کہ دیکھو مسلمانوں کے مذہب میں لکھا ہے کہ اندھوں کو نجات نہیں ۔ غریب اندھے کا کیا قصور ہے ۔ مگر جو تعصب دور کر کے غور سے قرآن شریف کو پڑھے گا وہ سمجھ لے گا کہ اس جگہ پر آنکھوں سے اندھے مراد نہیں ہیں بلکہ دل کے اندھے مراد ہیں۔ غرض یہ ہے کہ جن کو اسی دنیا میں خدا کا درشن نہیں ہوتا انہیں دوسرے جہاں میں بھی درشن نہیں ہوگا اسی طرح صد ہا خدا کے کلام میں مجاز اور استعارے ہوتے ہیں۔ ایک نفسانی جوش والا آدمی جلدی سے سب کو جائے اعتراض بناوے گا۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہی سچ بات ہے کہ خدا کا کلام سمجھنے کے لئے اول دل کو ایک نفسانی جوش سے پاک بنانا چاہئے تب خدا کی طرف سے دل پر روشنی اُترے گی ۔ بغیر اندرونی روشنی کے اصل حقیقت نظر نہیں آتی ۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۔ یعنی یہ پاک کا کلام بنی اسرائیل: ٢٣ الواقعة : ٨٠