پیغام صلح — Page 462
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶۲ پیغام صلح بیماری طبیب کو چاہتی ہے ۔ اور آپ لوگ اس بات کے سمجھنے کے لئے سب سے زیادہ استعد ا د ر کھتے ہیں کیونکہ جیسا کہ بقول آپ صاحبوں کے وید ایسے وقت میں نہیں آیا جبکہ گناہ کا طوفان برپا تھا بلکہ ایسے وقت آیا جبکہ زمین پر گناہ کا کوئی سیلاب نہ تھا تو کیا آپ صاحبوں کی نظر میں یہ بات قیاس سے دور ہے کہ ایسے وقت میں کوئی نبی ظاہر ہو جبکہ گناہ کا تند سیلاب ہر ایک ملک میں اپنی تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہو۔ میں نہیں امید رکھتا کہ آپ لوگ اس تاریخی واقعہ سے بے خبر ہوں گے کہ جب ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسند رسالت کو اپنے وجود سے عزت دی تو وہ زمانہ ایک ایسا تاریک زمانہ تھا کہ کوئی پہلو دنیا کی آبادی کا بدچلنی اور بد عقیدگی سے خالی نہ تھا اور جیسا کہ پنڈت دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھتے ہیں اُس زمانہ میں اس ملک آریہ ورت میں بھی بت پرستی نے خدا پرستی کی جگہ لے لی تھی اور ویدک مذہب میں بہت سا بگاڑ ہو گیا تھا۔ ایسا ہی پادری فنڈل صاحب مصنف میزان الحق جو عیسائی مذہب کا سخت حامی ایک یورپین انگریز ہے وہ اپنی کتاب میزان الحق میں لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سب قوموں سے زیادہ بگڑی ہوئی عیسائی قوم تھی اور ان کی بد چلنیاں عیسائی مذہب کی عار اور ننگ کا موجب تھیں اور خود قرآن شریف بھی اپنے نزول کی ضرورت کے لئے یہ آیت پیش کرتا ہے : ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے ۔ (۳۵) اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ کوئی قوم خواہ وحشیانہ حالت رکھتی ہیں اور خواہ عقلمندی کا دعویٰ کرتی ہیں فساد سے خالی نہیں۔ الروم: ۴۲ اب جب کہ تمام شہادتوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم