پیغام صلح — Page 463
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶۳ پیغام صلح کے زمانہ کے لوگ کیا مشرقی اور کیا مغربی اور کیا آریہ ورت کے رہنے والے اور کیا عرب کے ریگستان کے باشندے اور کیا جزیروں میں اپنی سکونت رکھنے والے سب کے سب بگڑ گئے تھے۔ اور ایک بھی نہیں تھا جس کا خدا کے ساتھ تعلق صاف ہو۔ اور بدعملیوں نے زمین کو نا پاک کر دیا تھا تو کیا ایک عقلمند کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ یہ وہی وقت اور وہی زمانہ تھا جس کی نسبت عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ایسے تاریک زمانہ میں ضرور کوئی عظیم الشان نبی آنا چاہیے تھا۔ رہا یہ سوال کہ اس نبی نے دنیا میں آکر کیا اصلاح کی ۔ اس سوال کا جواب جیسا کہ ایک مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے بارے میں دے سکتا ہے میں زور سے کہتا ہوں کہ ایسا صاف اور مدلل جواب نہ کوئی عیسائی دے سکتا ہے اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی آریہ۔ پہلا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب کی اصلاح تھی ۔ اور عرب کا ملک اُس زمانہ میں ایسی حالت میں تھا کہ بمشکل کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان تھے ۔ کون سی بدی تھی جو ان میں نہ تھی اور کون سا شرک تھا جو ان میں رائج نہ تھا۔ چوری کرنا ، ڈا کہ مارنا ان (۳۶) کا کام تھا اور ناحق کا خون کرنا ان کے نزدیک ایک ایسا معمولی کام تھا جیسا کہ ایک چیونٹی کو پیروں کے نیچے کچل دیا جائے ۔ یتیم بچوں کو قتل کر کے اُن کا مال کھا لیتے تھے۔ لڑکیوں کو زنده بگور کرتے تھے۔ زنا کاری کے ساتھ فخر کرتے اور علانیہ اپنے قصیدوں میں اُن گندی باتوں کا ذکر کرتے تھے ۔ شراب خواری اُس قوم میں اس کثرت سے تھی کہ کوئی گھر بھی شراب سے خالی نہ تھا اور قمار بازی میں سب ملکوں سے آگے بڑھے ہوئے تھے ۔ حیوانوں کی عار تھے اور سانپوں اور بھیٹریوں کی ننگ۔ پھر جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے اور اپنی باطنی توجہ سے ان کے دلوں کو صاف کرنا چاہا تو اُن میں تھوڑے ہی دنوں