نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 239

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۳۹ نور الحق الحصة الثانية إني أرى إيذاء هم وفسادهم ويذُوب روحـي والـوجـودُ يُنقَّبُ میں ان کے ایذا اور فساد دیکھتا ہوں اور روح گداز ہوتی ہے اور وجود میں سوراخ ہوتا ہے عين جرث من قطر دمع عينها قلب على جُمر الغضا يتقلب آنکھ سے آنسوؤں کی بارش کے ساتھ چشمہ جاری ہے دل افروختہ کو ئیلوں پر جو غضا کی لکڑی کے ہیں لوٹ رہا ہے من كل قـ ل قُنّاتٍ وجبل شاهق وشوامخ نسلوا ووطى المجْنَبُ تمام پہاڑوں کی چوٹیوں اور بلند پہاڑوں سے اور اونچے پہاڑوں سے دشمن دوڑے اور عرب کی سرحد تک پہنچ گئے وعلى قنان الشامخات مصيبةٌ عُظمى فأين الوهد منهم تهرب اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک بڑی مصیبت ہے پس نشیب ان کے حملوں سے کہاں بھاگ جائیں ريـح الــمــصـائف قد أطالت لهبها مـن سـومِهـا وسهـامهـا نتعجب گرمی کی ہوا نے اپنے شعلے لمبے کر دیئے اس کے چلنے اور اس کی لو سے ہم تعجب کرتے ہیں ا بقى من سبب ولا من رُمَّةٍ إلا الذى هو قادر ومسبب کوئی پکا سبب اور کوئی کچا سبب باقی نہ رہا مگر وہ خدا جو سبوں کو پیدا کرتا ہے شبّوا لظى الطَّغوى فبعد ضرامه هاجَ الدّخان وكلّ طرف يشغبُ ۴۴) انہوں نے حد سے بڑھنے کی آگ کو بھڑکا دیا سو اس کے بھڑکنے کے بعد دھواں اٹھا اور ہر ایک طرف تباہی ڈالی حرق كجبل ساطع أسنامُه فِتَن تبـــيــد الـكـائـنات وتنهبُ یہ وہ آگ ہے جو بلند پہاڑ کی طرح اس کی چوٹی ہے یہ وہ فتنے ہیں جو ہلاک کرتے جاتے اور لوٹتے جاتے ہیں إني أرى أقوالهم كأسِنَةٍ تؤذى القلوب جروحها وتعذَّبُ میں ان کی باتوں کو برچھیوں کی طرح دیکھتا ہوں دلوں کو ان کے زخم دکھ دیتے ہیں اور عذاب پہنچاتے ہیں أو كابن عم المرهفات كلالة أو كالسهام المُصمِيات تُتبّب یا وہ دور کے رشتہ سے تلواروں کے چچیرے بھائی ہیں یا وہ ان تیروں کی طرح جو خطا نہیں کرتے ہلاک کرنے والے ہیں طلعوا إلى ظلم وزيعٍ حِشْنَةً وإلى كلام يُؤذِينُ ويحرّبُ کینہ کی وجہ سے ظلم اور کبھی کی طرف مائل ہو گئے اور اس کلام کی طرف مائل ہوئے جو دکھ دیتی اور غصہ دلاتی ہے