نورالحق حصہ اوّل — Page 8
روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى وما خالفنا المكفّرين إلا في وفاة عيسى ابن مریم علیه السلام، اور جن لوگوں نے ہمیں کا فرٹھہرایا ان سے ہم صرف اس بات میں ان کے مخالف ہیں کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات فاغتاظوا غيظا شديدا، وملئوا منه كأنهم لا يؤمنون بآية يُعِيسَى إِنِّي کے قائل ہیں وہ لوگ بہت غضبناک ہوئے اور غصہ سے بھر گئے گویا انہیں اس بات پر کچھ ایمان نہیں کہ اے عیسے میں متوفيك ولا يؤمنون بوعد الوفاة الذى قد صرّح فيها، وكأنهم لا تجھے وفات دوں گا اور نہ وعدہ وفات پر ایمان ہے جس کی اس آیت میں تصریح ہے اور گویا وہ لوگ اس آیت کو بھی پہچانتے نہیں يعرفون آية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى التى فيها إشارة إلى إنجاز هذا الوعد ووقوع جس میں حضرت عیسی کا اقرار ہے کہ تو نے مجھے وفات دی یہ وہی آیت فلما تو فیتنی ہے جس میں اس وعدہ موت کے پورے الموت۔ والآيات بيـنـة مـنـكـشفة، فلعلهم فی شک من کتاب مبین، ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت انی متوفیک میں ہو چکا تھا۔ آیات کھلے کھلے ہیں مگر شاید یہ لوگ قرآن پر یقین نہیں فنبذوا كتاب الله وراء ظهورهم بعدما كانوا مؤمنين۔ رکھتے اور شک میں ہیں اور کتاب اللہ کوانہوں نے ایمان لانے کے بعد اپنی پس پشت پھینک دیا ہے۔ وتعجبتُ ۔ ولا تعجب من ختم الله وإضلاله۔ أن أكثر علماء اور میں نے تعجب کیا اور خدا کے قہر اور اس کے گمراہ کرنے سے کچھ تعجب بھی نہیں کہ اس ملک کے اکثر هذه الديار فسدوا حتى ۔ عطلت حواسهم، وسُلبت عقولهم، وعُمرت مولوی بگڑ گئے یہاں تک کہ ان کے حواس بے کار اور معطل ہو گئے اور ان کی عقلیں مسلوب ہو گئیں اور ان کی مداركهم و گذرت آراؤهم، وغشيت أعينهم۔ فيا عجبًا لفعل الله دماغی قوتیں تم ہو گئیں اور ان کی راؤں پر تاریکی چھا گئی اور آنکھوں پر پردے پڑ گئے سو دیکھو خدا کا کام اور وقهره كيف أخَذ كلَّ ما كان عندهم من البصيرة والمعرفة والدراية، اس کا قہر کس طرح سے اس نے ان کی بصیرت اور معرفت اور دانائی لے لی وتركهم فى ظلماتٍ لا يبصرون لا يأخذهم رِقّةً على مصائب الإسلام اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا۔ ان کا دل اسلام کی مصیبتیں دیکھ کر کچھ بھی نرم نہیں ہوتا ال عمران : ۵۶