نشانِ آسمانی — Page 403
روحانی خزائن جلد۴ ۴۰۳ نشان آسمانی یہ ہے کہ اگر گورنمنٹ کی تلوار سے خوف نہ ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے تلوار کو مہدی کی طرف منسوب کرنا حدیث کے اصل منشاء میں تحریف ہے اگر اس مہدی کے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو پھر کیونکر یہ بزدل علما حیفہ خوار دنیا کے اس کو ملعون اور کافر اور دجال کہہ سکتے ۔ کافروں کی تو سوسو خوشامد کر کے اپنا دین بر باد کر لیں تو پھر یہ نامرد گر وہ تلوار کی چمک دیکھ کر ایک مومن کو کیونکر کافر اور دجال کہہ سکیں اور نیز اس جگہ صدیق حسن صاحب اپنی طرف سے یہ زیادت لگا گئے ہیں کہ اس امام موعود کے منکر اور مکفر حنفی وغیرہ مقلدین ہوں گے ہم لوگ نہیں ہوں گے۔ حالانکہ یہی موحدین اول المکفرین ہیں اور مقلدین ان کے اتباع سے ہیں اور صدیق حسن صاحب کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ اس امام موعود سے محمد بن عبد اللہ مہدی مراد ہیں کیونکہ وہ تو بقول ان کے خونی مہدی صاحب سیف وسنان ہیں اور ماسوا اس کے ان کیلئے بقول ان علماء کے آسمان سے آواز آئے گی اور بڑے بڑے خوارق اُس سے ظہور میں آئیں گے اور حضرت مسیح آسمان سے اتر کر اسکے پیروؤں اور مبایعین میں داخل ہوں گے اور مکفرین کی سزا کیلئے ان کے پاس تلوار ہوگی۔ پھر مولویوں کی خواہ وہ موحد ہوں یا مقلد کیا مجال ہے کہ ان کو ضال اور بے ایمان اور کافر اور دجال کہہ سکیں یہ پیشگوئی تو اس غریب مہدی کیلئے ہے جس کی بادشاہی اس دنیا کی بادشا ہی نہیں اور جس کو تلواروں سے کچھ غرض نہیں۔ خونی مہدی جب کہ ادنی ادنی بدعتوں پر بقول صدیق حسن خاں صاحب کے لوگوں کو قتل کر دے گا تو پھر مولاوی اس کو کافر اور دجال اور بے ایمان کہہ کر اور اسکے کفر کی نسبت فتوے لکھ کر کیونکر اس کے ہاتھ سے بچیں گے اور کیا ان مولویوں کا حوصلہ ہے کہ ایک زبر دست با دشاہ کو جس کی تلوار سے خون چکے کافر اور دجال کہ سکیں اور اس کی نسبت فتوی (۱۸) لکھ سکیں ۔ دراصل بات یہ ہے کہ احادیث میں کئی قسم کے مہدیوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور مولویوں نے تمام احادیث کو ایک ہی جگہ خلط ملط کر کے گڑ بڑ ڈال دیا ہے اور اختلاط روایات کی وجہ سے اور نیز قلت تدبر کے باعث سے ان پر امر مشتبہ ہو گیا ہے ورنہ چودھویں صدی کا مہدی جس کا نام سلطان المشرق بھی ہے خصوصیت کے ساتھ احادیث میں بیان