نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 598

نشانِ آسمانی — Page 402

روحانی خزائن جلد۴ ۴۰۲ ہمارے سید و مقتدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی نشان آسمانی جاننا چاہیے کہ اگر چہ عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدائے تعالی اس اُمت کی اصلاح کیلئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اسکے دین کو نیا کرے گا لیکن چودھویں صدی کیلئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا ہاں اسکے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے گا تو علما اسکے کفر کا فتویٰ دیں گے اور نزدیک ہے کہ اس کو قتل کر دیں۔ چنانچہ مولوی صدیق حسن صاحب بھی حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۶۳ اور صفحہ ۳۸۲ میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علماء وقت کہ جو خوگر تقلید فقہاء و مشائخ ہیں اس مہدی کی تعلیم کو سن کر یوں کہیں گے کہ یہ تو دین اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہے اور اس کی مخالفت کیلئے اٹھیں گے اور اپنی قدیمی عادت کے موافق اس کی تکفیر اور تضلیل کریں گے یعنی کا فراور ضال اور دجال اور گمراہ اس کا نام رکھیں گے مگر تلوار کی ہیبت سے ڈریں گے اور مولویوں سے زیادہ تر دشمن اس کا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ اسکے ظہور سے ان کی وجاہتوں اور ریاستوں میں فرق آجائے گا اور اگر تلوار نہ ہوتی تو اس کے حق میں قتل کا فتویٰ دیتے اور اگر اس کو قبول بھی کریں گے تو دل میں اس کا کینہ رکھیں گے۔ اس کی پیروی جس قدر عام لوگ کریں گے خاص نہیں کریں گے۔ عارف لوگ جو اہل شہود و کشف ہیں اسکے سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس بیان میں صدیق حسن صاحب نے تلوار کے معنے الٹے سمجھے ہیں بلکہ مطلب