نشانِ آسمانی — Page 391
روحانی خزائن جلد۴ ۳۹۱ نشان آسمانی قسم کے دھوکوں کے نمونے دوسری قوموں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ لوگ عادت اللہ کی طرف خیال نہیں کرتے اور وہ معنے جو مسنون اللہ اور قرین قیاس ہیں ترک کر کے ایک بے ہودہ اور بے اصل معنے قبول کر لیتے ہیں سوسید احمد صاحب کا دوبارہ آنا جو ہمارے اکثر موحد بھائی بڑے ذوق وشوق سے انتظار کر رہے ہیں درحقیقت اسی قسم کے خیالات میں سے ہے اے حضرات ! احمد آنے والا آ گیا۔ اب تم بھی سمجھ لو کہ سید احمد آ گیا کیونکہ مومن كنفس واحدة ہوتے ہیں ۔ ولِلهِ دَر القائل ۔ انبیاء در اولیاء جلوه دهند ہر زمان آیند در رنگی دگر ہائے افسوس لوگ اس بات سے کیسے بے خبر ہیں کہ ہر ایک فرد بشر کو موت لگی ہوئی ہے اور دوبارہ آنا کسی فوت شدہ کا۔ یعنی حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ ہر گز تجویز نہیں کرتا اور کوئی صالح آدمی دو موتوں اور دو جان کندنوں سے ہرگز معذب نہیں ہو سکتا۔ اس بے ہودہ خیال سے کہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بڑے بڑے فتنے دنیا میں پڑ گئے ہیں در اصل عیسائیوں کے پاس مسیح کو خدا ٹھہرانے کی یہی بنیاد ہے اور اس کو زندہ ماننے سے رفتہ رفتہ انکا یہ خیال ہو گیا کہ اب باپ کچھ نہیں کرتا سب کچھ اس نے اپنے بیٹے کو جو زندہ موجود ہے سپر د کر رکھا ہے۔ غرض یہی اول دلیل مسیح کے خدا ہونے کی عیسائیوں کے پاس ہے۔ جس کی ہمارے علماء تائید کر رہے ہیں مگر حق بات یہی ہے کہ وہ فوت ہو گئے قرآن کریم ان کے فوت پر انہیں لفظوں سے شاہد ہے جو دوسرے موتی کیلئے استعمال کئے گئے ہیں بخاری میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی موت کی تصدیق کرتے ہیں ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی اس آیت تو فی عیسی کے بھی موت ہی معنے بیان کرتے ہیں اور طبرانی اور حاکم حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ عیسی ایک سو بیس برس تک زندہ رہا۔ اسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عیسی سے میری عمر آدھی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو غالباً ہمارے نبی