نشانِ آسمانی — Page 390
روحانی خزائن جلد۴ ۳۹۰ نشان آسمانی خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں بار بار فرماتا ہے کہ تم اے مسلمانوں ان ٹھوکروں سے بچو جو یہودی لوگ کھا چکے ہیں اور ان خیالات سے پر ہیز کرو جن پر جمنے سے یہودی لوگ کہتے اور سور بنائے گئے ۔ دانا وہ ہے جو دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑے اور جس جگہ دوسرے کا پیر پھل چکا ہے اس جگہ قدم رکھنے سے ڈرے افسوس کہ آپ لوگ اپنے لئے اور اپنی قوم کیلئے وہی غاریں کھود رہے ہیں جو یہودیوں نے کھودی تھیں۔ ذرہ تکلیف اٹھا ئیں اور یہود کے علماء کے پاس جائیں اور پوچھیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ اور حضرت بیچی کو قبول کیوں نہ کیا تو یہی جواب پائیں گے کہ بچے میچ کے آنے کی آسمانی کتابوں اور بنی اسرائیل کی احادیث میں یہی نشانی لکھی ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اترے گا اور نیز مسیح بادشاہ اور صاحب لشکر ہوگا سو چونکہ ایلیا نبی آسمان سے نہیں اترا اور نہ ابن مریم کو ظاہری بادشاہی ملی اسلئے مریم کا بیٹا سچا سچ نہیں ہے۔ اب آپ لوگ سوچیں اور خوب سوچیں کہ یہ قصہ ایلیا کا مسیح موعود کے قصہ سے کس قدرہم شکل ہے اور اس بات کو سمجھ لیں کہ گومسیح کے پہلے کئی نبی ہوئے مگر کسی نے یہ ظاہر نہ کیا کہ ایلیا سے مراد کوئی دوسرا شخص ہے۔ مسیح کے ظہور کے وقت تک یہود کے تمام فقیہوں اور مولویوں کا اسی پر اتفاق رہا کہ ایلیا نبی پھر دنیا میں آئے گا۔ اور تعجب یہ کہ ان کے ملہموں کو بھی یہ الہام نہ ہوا کہ یہ عقیدہ سراسر غلط ہے اور آسمانی کتاب کے ظاہر لفظ بھی یہی بتلاتے رہے کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ لیکن آخر کار حضرت مسیح پر خدائے تعالیٰ نے یہ راز سر بستہ کھول دیا کہ ایلیا نبی دوبارہ نہیں آئے گا بلکہ اسکے آنے سے مراد ا سکے ہم صفت کا آنا ہے جو بیٹی نبی ہے اصل بات یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں بہت سے اسرار ہوتے ہیں کہ جو اپنے وقت پر کھلتے ہیں اور بغیر پہنچنے وقت کے بڑے بڑے عارف بھی ان کی اصل حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامی دارد - وَكَمْ مِنْ علم تَرَكَ الأَوَّلُونَ لِلآخِرینَ ۔ اسی طرح یہ بات قرین قیاس ہے کہ سید احمد صاحب یا اس کے کسی صالح مرید کو یہ الہام ہوا ہو کہ احمد پھر دنیا میں آئے گا اور انہوں نے اسکے یہ معنی سمجھے ہوں کہ یہی سید احمد صاحب کچھ مدت دنیا سے محجوب رہ کر پھر دنیا میں آجائیں گے۔ اس