نشانِ آسمانی — Page 392
روحانی خزائن جلد۴ ۳۹۲ نشان آسمانی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک زندہ ہی ہوں گے۔ ایک اور نکتہ ہے جو کلام الہی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انسان خدائے تعالیٰ کے جذبات سے ہدایت پا کر دن بدن حق اور حقانیت کی طرف ترقی کرتا ہے اور نفس اور نفسانی امور کو چھوڑتا جاتا ہے تو آخر انتہائی نقطہ اسکے تصفیہ نفس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ بکلی ظلمت نفس اور جذبات نفسانیہ سے باہر آ کر اور جسم کو جو تخت گاہ نفس ہے ادخنہ جسمانیہ سے دھو کر ایک مصفا قطرہ کی طرح ہو جاتا ہے اس وقت وہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں فقط ایک روح مجرد ہوتا ہے جو گدازش نفس کے بعد باقی رہ جاتا ہے اور اطاعت کا ملہ موٹی میں ملائک سے ایک مشابہت پیدا کر لیتا ہے تب اس مقام پر پہنچ کر عند اللہ اس کا حق ہوتا ہے جو اس کو روح اللہ اور کلمتہ اللہ کہا جائے یہ معنی ایک طور سے اس حدیث سے بھی نکلتے ہیں جو ابن ماجہ اور حاکم اپنی کتابوں میں لائے ہیں کہ لَا مَهْدِى إِلَّا عِیسی یعنی مہدی کے کامل مرتبہ پر وہی پہنچتا ہے جو اول عیسی بن جائے۔ یعنی جب انسان تبتل الی اللہ میں ایسا کمال حاصل کرے جو فقط روح رہ جائے تب وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک روح اللہ ہو جاتا ہے اور آسمان میں اس کا نام عیسی رکھا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ایک روحانی پیدائش اس کو ملتی ہے جو کسی جسمانی باپ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا سایہ اس کو وہ پیدائش عنایت کرتا ہے۔ پس در حقیقت تزکیہ اور فنافی اللہ کا کمال یہی ہے کہ ظلمات جسمانیہ سے اس قدر تجر د حاصل کرے کہ فقط روح باقی رہ جائے یہی مرتبہ عیسویت ہے جس کو خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کامل طور پر عطا کرتا ہے۔ اور مرتبہ کاملہ دجالیت یہ ہے کہ حسب مضمون أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ - نفساني نشیبوں کی طرف زیادہ سے زیادہ جھکتا جائے یہاں تک کہ گہری تاریکیوں کے غاروں میں پڑ کر تاریکی مجسم ہو جائے اور بالطبع ظلمت کا دوست اور روشنی کا دشمن ہو جائے عیسوی حقیقت کے مقابل پر دجالیت کی حقیقت کا ہونا ایک امر لازمی ہے کیونکہ ضد ضد سے شناخت کی جاتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے ہی یہ دونوں حقیقتیں شروع ہیں ۔ ابن صیاد کا آپ نے دجال نام رکھا۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کہا کہ تجھ میں الاعراف : ۱۷۷