نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 598

نشانِ آسمانی — Page 389

روحانی خزائن جلد۴ ۳۸۹ نشان آسمانی پر ضائع کر رہے ہیں۔ اس کی صرف اس قدر اصلیت معلوم ہوتی ہے کہ قدیم سے خدائے تعالیٰ کی یہ سنت جاری ہے کہ بعض اوقات وہ ایک کامل فوت شدہ کے دنیا میں دوبارہ آنے کی نسبت کسی اہل کشف کے ذریعہ سے خبر دے دیتا ہے اور اس سے مراد صرف یہ بات ہوتی ہے کہ اس شخص کی طبع اور سیرت پر کوئی شخص پیدا ہوگا چنانچہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ملا کی نبی نے بھی یہ خبر دی تھی کہ ایلیا نبی جو آسمان پر اٹھایا گیا ہے پھر دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیا دوبارہ دنیا میں نہ آوے تب تک مسیح نہیں آ سکتا۔ اس خبر کے ظاہر الفاظ پر یہود ظاہر پرست اس قدر جم گئے کہ انہوں نے حضرت مسیح کو ان کے ظہور کے وقت قبول نہ کیا اور ہر چند حضرت مسیح نے انہیں کہا کہ ایلیا سے مراد یوحنا زکریا کا بیٹا ہے جو بیٹی بھی کہلاتا ہے لیکن ان کی نظر تو آسمان پر تھی کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا ۔ پس اس ظاہر پرستی کی وجہ سے انہوں نے دونبیوں کا انکار کر دیا یعنی عیسی اور بیٹی کا اور کہا کہ یہ سچے نبی نہیں ہیں۔ اگر یہ سچے ہوتے تو ان سے پہلے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتابوں میں خبر دی تھی ایلیا نبی آسمان سے نازل ہوتا ۔ سو یہودی لوگ اب تک آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب ایلیا نبی اس سے اترتا ہے اور ان بدنصیبوں کو خبر نہیں کہ ایلیا نبی تو آسمان سے اتر چکا اور مسیح بھی آچکا افسوس کہ خشک ظاہر پرستی نے کس قدر دنیا کو نقصان پہنچائے ہیں پھر بھی دنیا نہیں بجھتی۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ اے مسلمانوں تم آخری زمانہ میں بکلی یہودیوں کے قدم به قدم ہر یک بات میں چلو گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو تم بھی کرو گے یہ حدیث اور ایلیا نبی کا قصہ مسیح موعود کے قصہ کے ساتھ جس پر آج طوفان برپا ہو رہا ہے ملا کر پڑھو اور غور کرو اور ذرہ عقل سے کام لے کر سوچو کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا خیال جو یہودیوں کے اہل سنت والجماعت میں بالا تفاق قائم ہو چکا تھا آخر وہ حضرت عیسی کی عدالت سے کیونکر فیصلہ ہو کر پاش پاش ہو گیا۔ کہاں گیا ان کا اجماع سوچ کر دیکھو کہ آیا سچ مچ ایلیا نبی آسمان سے اتر آیا یا ایلیا سے بیٹی بن زکریا مراد لیا گیا۔