نشانِ آسمانی — Page 388
روحانی خزائن جلدم ۳۸۸ نشان آسمانی سرسری خیال گذر سکتا ہے کہ سید احمد صاحب میں یہ تینوں علامتیں تھیں لیکن ذرہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس پیشگوئی کو سید احمد صاحب موصوف سے کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ اول تو ان اشعار سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ مجدّد موعود تیرھویں صدی کے اوائل میں نہیں ہوگا بلکہ تیرھویں صدی کے اخیر پر کئی واقعات اور حادثات اور فتن کے ظہور کے بعد ظہور کرے گا یعنی چودھویں صدی کے سر پر ہوگا مگر ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے تیرھویں صدی کے نصف تک بھی زمانہ نہیں پایا پھر چودھویں صدی کا مجددان کو کیونکر ٹھہرایا جائے ماسوا ا سکے سید موصوف نے یہ دعویٰ جو ان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے اپنی زبان سے کہیں نہیں کیا اور کوئی بیان ان کا ایسا پیش نہیں ہو سکتا جس میں یہ دعوی موجود ہو اور ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ امر ہے کہ شیخ نعمت اللہ ولی نے ان اشعار میں اس آنے والے کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مہدی اور عیسیٰ بھی کہلائے گا حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے بھی عیسی ہونے کا دعوی نہیں کیا۔ پھر انھیں اشعار میں ایک یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ اسکے بعد اسکے رنگ پر آنے والا اس کا بیٹا ہوگا کہ اس کا یادگار ہوگا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے ایسے کامل بیٹے کی نسبت کوئی پیشگوئی نہیں کی اور نہ کوئی ان کا ایسا بیٹا ہوا کہ وہ عیسوی رنگ سے رنگین ہو۔ پھر انہیں اشعار میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ وہ مبعوث ہونے کے وقت سے چالیس برس تک عمر پائے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب اپنے ظہور کے وقت سے صرف چند سال زندہ رہ کر اس دنیا فانی سے انتقال کر گئے لیکن براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ظاہر ہوگا کہ یہ عاجز تجدید دین کیلئے اپنی عمر کے سن چالیس میں مبعوث ہوا جس کو گیاراں برس کے قریب گذر گیا اور باعتبار اس پیشگوئی کے جو ازالہ اوہام میں درج ہے یعنی یہ کہ ثمانين حولا او قريباً من ذلك ایام بعثت چالیس برس ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم ۔ اور سید صاحب کے پھر دوبارہ آنے کی امید رکھنا اسی قسم کی امید ہے جو حضرت ایلیا اور مسیح کے آنے پر رکھی جاتی ہے اور نہایت سادہ اور بے خبر آ دمی اپنے وقتوں کو اُس امید