نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 566

نسیمِ دعوت — Page 457

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۵ نسیم دعوت مسلمان ہے جو خدا کو محدود جانتا ہے یا اس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے۔ اب یاد رکھو کہ قرآن شریف میں یہ تو کہیں بھی نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اُٹھا رہا ہے بلکہ جا بجا یہ لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز کو اُٹھا رہا ہے ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکور ہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھا رہے ہیں ۔ دانشمند اس جگہ سے سمجھ سکتا تھا کہ جبکہ عرش کوئی مجسم چیز ہی نہیں تو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں ۔ ضرور کوئی یہ استعارہ ہو گا مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرضی اور تعصب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔ اب اصل حقیقت سنو کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے ۔ اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں جو دید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے خدا تعالیٰ کی چار صفتیں ہیں جن سے ربوبیت کی پوری شوکت نظر آتی ہے۔ اور کامل طور پر چہرہ اس ذات ابدی از لی کا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان ہر چہار صفتوں کو سورۃ فاتحہ میں بیان کر کے اپنی ذات کو معبود قرار دینے کے لئے ان لفظوں سے لوگوں کو اقرار کرنے کی ہدایت دی ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین ۔ یعنی اے وہ خدا جوان چار صفتوں سے موصوف ہے۔ ہم خاص تیری ہی پرستش کرتے ہیں کیونکہ تیری ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحمانیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحیمیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری صفت مالکانہ جزا وسزا کی بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیرے اس حسن اور احسان میں بھی کوئی شریک نہیں۔ اس لئے ہم تیری عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں کرتے ۔ اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا حاشیه