نسیمِ دعوت — Page 456
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۴ نسیم دعوت پر جھوٹ بولتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد تو محض اس بات پر ہے کہ عرش کوئی علیحدہ چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے اور جب یہ امر ثابت نہ ہو سکا تو کچھ اعتراض نہ رہا۔ خدا صاف فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی ہے اور آسمان پر بھی اور کسی چیز پر نہیں بلکہ اپنے وجود سے آپ قائم ہے اور ہر ایک چیز کو اُٹھائے ہوئے ہے اور ہر ایک چیز پر محیط ہے۔ جہاں تین ہوں تو چوتھا ان کا خدا ہے۔ جہاں پانچ ہوں تو چھٹا ان کے ساتھ خدا ہے اور کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہیں اور پھر فرماتا ہے۔ ايْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ لے جس طرف تم منہ کرو اسی طرف خدا کا منہ پاؤ گے۔ وہ تم سے تمہاری رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہی ہے جو پہلے ہے اور وہی ہے جو آخر ہے اور وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے اور وہ نہاں در نہاں ہے اور پھر فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ! یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے۔ پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ ہر ایک چیز کی گل میرے ہاتھ میں ہے اور میر اعلم سب (۵) پر محیط ہے۔ میں ہی ہوں جوز زمین و آسان کو اٹھارہاہوں۔ میں ہی ہوں جو نہیں خشکی تری میں اُٹھا رہا ہوں ۔ یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں۔ بچہ بچہ مسلمانوں کا ان کو جانتا اور پڑھتا ہے۔ جس کا جی چاہے وہ ہم سے آکر ابھی پوچھ لے۔ پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کر اس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے ایسا دنیا میں کون البقرة : ١١٦ ٢ البقرة: ۱۸۷