نسیمِ دعوت — Page 458
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۶ نسیم دعوت ان کا نام فرشتے بھی ہے اور وہ یہ ہیں۔ اکاش جس کا نام اندر بھی ہے۔ سورج دیوتا جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔ چاند جس کو عربی میں قمر کہتے ہیں۔ دھرتی جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔ یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں خدا کی چار صفتوں کو جو اس کے جبروت اور عظمت کا اتم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا جاتا ہے اٹھارہے ہیں یعنی عالم پر یہ ظاہر کر رہے ہیں تصریح کی حاجت نہیں۔ اس بیان کو ہم مفصل لکھ آئے ہیں اور قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں۔ حاشیه (1) ذرات اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں۔ (۲) اکاش۔سورج۔ چاند۔ زمین کی قوتیں جو کام کر رہی ہیں۔ (۳) ان سب پر اعلی طاقتیں جو جبرائیل ومیکائیل وعزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں تم لکھا ہے مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہی صفتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مرتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار سنتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فعل اللہ تعالی کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں۔ پس یہ چار صفتیں خدا تعالی کی پوری صورت دکھلاتی ہیں سو در حقیقت استوا علی العرش کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالی کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آگئیں تو خدا تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر تجلی ہوگئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی