نسیمِ دعوت — Page 423
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۱ نسیم دعوت آب و تاب کو ویران کرنا شروع کرتا ہے۔ اکثر درختوں کے پتے گر جاتے ہیں اور ان کے اندر کا مادہ سیالہ جو تازگی بخش ہوتا ہے خشک ہو جاتا ہے۔ انسانوں کے بدن پر بھی اس موسم کا یہی اثر ہوتا ہے کہ خشک اور سوداوی امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ پس اسی طرح خدا کی ایک تحجتی بھی موسم خریف سے مشابہ ہے کہ ایک زمانہ انسانوں پر آتا ہے کہ ان کے دلوں پر قبض طاری ہوتی ہے اور وجد اور یا دالہی کا مادہ سیالہ جو روحانی تازگی کو بخشتا ہے وہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے گو کھلے کھلے معصیت اور فسق کا دور ابھی نہیں آتا مگر اُنس الہی کا جوش جاتا رہتا ہے اور دلوں پر افسردگی اور مردگی اور جمود طبع اور قبض غالب ہو جاتا ہے اور لذت اور ذوق شوق الہی باقی نہیں رہتا اور یہ زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس کو کلجگ کا پیش خیمہ کہنا چاہیے۔ پھر دوسرا زمانہ جو بذریعہ سورج کے خریف کے بعد ظاہر ہوتا ہے وہ موسم سرما کا زمانہ ہے جبکہ آفتاب اپنی دوری کی وجہ سے شدت برودت ظاہر کرتا ہے سو اسی طرح اس ۵۵) آفتاب حقیقی کی جس کا نام خدا ہے ایک تجلّی ہے جو جاڑے سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا کی محبت دلوں سے بکلی ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور انسانی طبیعتیں اس کو چھوڑ دیتی ہیں اور بجائے اس کے ہر ایک شخص نفس اور شہوات کی راہ کو پسند کرتا ہے اور شراب خواری۔ قمار بازی۔ زنا کاری اور جھوٹ ۔ فریب۔ دعا۔ بد زبانی۔ تکبر۔ دنیا پرستی۔ چوری۔ خیانت ۔ خونریزی ۔ ٹھٹھا۔ جنسی اور ہر ایک قسم کا پاپ اور ہر ایک قسم کا پلید کام دنیا میں پھیل جاتا ہے اور تمام لیاقتیں زبان کی چالاکیوں سے آزمائی جاتی ہیں اور جو شخص ایسے طریقوں سے اپنی چالاکیاں دکھلاتا ہے وہ بڑا لائق سمجھا جاتا ہے اور بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے اور اگر مر بھی جائے تو اس کی یادگاریں قائم ہوتی ہیں۔ ایسا ہی زمین سنسان پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ شاذ و نادر کے طور پر کوئی زمین پر ہوتا ہے جو پاک دل اور پاک زبان اور پاک خیال