نسیمِ دعوت — Page 424
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۲ نسیم دعوت اور خدا سے ڈرنے والا اور معرفت کے پاک پانی سے سیراب ہونے والا ہو یہ موسم ایسا ہے گویا اس کو کلجگ کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نیکی کا کال اور بدی کا اقبال ہوتا ہے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر جاتی ہے۔ ☆ پھر دوسرا زمانہ جو سورج اپنے تغیرات سے جاڑے کے بعد ظاہر کرتا ہے وہ ربیع کا زمانہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ مردہ پودے نئے سرے زندہ کئے جاتے ہیں اور نباتات کا خشک شدہ خون نئے سرے پیدا کیا جاتا ہے۔ سو اسی طرح وہ جو آفتاب حقیقی ہے ایک بھاری تجلی اپنی جو موسم بہار کو دکھلاتی ہے دنیا پر ظاہر کرتا ہے۔ تب زمین کے زندہ کرنے کے لئے ایک نیا پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور وہ پانی اس طرح اُترتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو منتخب کر کے اس کے دل کو اس پانی کا ابر بہار بناتا ہے۔ تب وہ پانی اس بادل میں سے خدا تعالیٰ کے اذن سے نکلتا رہتا ہے۔ اور ان خشک پودوں پر پڑتا ہے جن کو خریف (۵۶) کی بادِ صرصر نے تباہ اور خراب کر دیا تھا اور ان میں معرفت الہی کے نئے پتے پیدا کرتا ہے اور ذوق شوق کے پھول ان میں نمایاں کر دیتا ہے اور آخر انسانی شاخوں کو نیک اعمال کے پھلوں سے بھر دیتا ہے۔ پھر تیسر ا زمانہ جو زمانہ بہار کے بعد سورج دیوتا ظاہر کرتا ہے وہ صیف کا زمانہ ہے جو موسم گرما کا زمانہ کہلاتا ہے اور موسم گرما میں سورج ان پھلوں کو پکا دیتا ہے جو بہار کے موسم میں ابھی کچے تھے ۔ پس اسی طرح خدا کی تجلی کے لئے بھی ایک موسم صیف یعنی موسم گرما آتا ہے۔ یہ وہ موسم ہوتا ہے جبکہ بہار کے دنوں سے ترقی کر کے انسانی پاک طبیعتیں خدا تعالی کی یاد میں اور اس کی محبت میں گرم ہوتی ہیں اور طبیعتوں میں ذکر الہی کے لئے جوش پیدا ہوتے ہیں اور ترقیات کمال کو پہنچتی ہیں اور یہ زمانہ پورے معنے سے ست جنگ کا زمانہ ہوتا ہے ۔ تب اکثر لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ کی حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے تیسر ا ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے چوتھا“ ہونا چاہیے۔ (ناشر)