نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 566

نسیمِ دعوت — Page 422

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۰ نسیم دعوت ہیں اور پھر کہا کہ یہ دعا بھی کرو کہ ہمیں ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن کو روحانی آنکھیں عطا نہیں ہوئیں آخر انہوں نے ایسے کام کئے جن سے اسی دنیا میں غضب ان پر نازل ہوا ۔ اور یا اس دنیا میں غضب سے تو بچے مگر گمراہی کی موت سے مرے اور آخرت کے غضب میں گرفتار ہوئے ۔ خلاصہ دعا کا یہ ہے کہ جس کو خدا روحانی نعمتیں عطا نہ کرے اور دیکھنے والی آنکھیں نہ بخشے اور دل کو یقین اور معرفت سے نہ بھرے آخر وہ تباہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کی شوخیوں اور شرارتوں کی وجہ سے اسی دنیا میں اس پر غضب پڑتا ہے کیونکہ وہ پاکوں کے حق میں بد زبانی کرتا ہے اور کتوں کی طرح زبان نکالتا ہے۔ پس ہلاک کیا جاتا ہے جیسا کہ یہود اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے ہلاک کئے گئے اور بار ہا طاعون کا عذاب ان پر نازل ہوا ۵۲ جس نے ان کی بیخ کنی کر دی اور یا اگر وہ دنیا میں شوخی اور شرارت نہ کرے اور بد زبانی اور شرارت کے منصوبے میں شریک نہ ہو تو اس کے عذاب کی جگہ عالم ثانی ہے جب اس دنیا سے وہ گزر جائے گا۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ ممکن ہے کہ رگ وید میں جو اندر اور سورج اور چاند اور آگ وغیرہ دیوتاؤں سے دعائیں مانگی گئی ہیں اس سے مراد وہ اعلیٰ طاقت حضرت احدیت ہو جو ان کے پردہ میں کام کر رہی ہے جو سب مجازی دیوتاؤں کا دیوتا ہے کیونکہ ہم بعض جگہ قرآن شریف میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پاتے ہیں کہ جس قدر اس عالم میں مختلف چیزیں نظام عالم کا قائم رکھنے کے لئے کام کر رہی ہیں وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے نمونے ہیں جو مجازی رنگ میں ظاہر ہورہے ہیں گویا اجرام فلکی اور عناصر ارضی ایک کتاب کے اوراق ہیں جن سے ہمیں خدا تعالیٰ کی صفات کے بارے میں معرفت کا سبق ملتا ہے اور عادت اللہ کا پتہ لگتا ہے مثلاً سورج چار فصلوں میں چار تغیرات دکھلاتا ہے ۔ اوّل تغیر موسم خریف جو موسم بہار کے مخالف ہے اس تغیر سے وہ درختوں کے