نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 566

نسیمِ دعوت — Page 421

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۹ نسیم دعوت ظاہر کرتا ہے انسان صرف اپنی عقل سے اس کو شناخت نہیں کرتا بلکہ وہ قادر مطلق اپنی خاص تجلی سے اور اپنی زبر دست قدرتوں اور نشانوں سے اپنے تئیں شناخت کرواتا ہے۔ وہی ہے کہ جب غضب اور قہر اس کا دنیا پر بھڑکتا ہے تو اپنے پرستار بندوں کو اس غضب سے بچالیتا ہے وہی ہے جو انسان کی عقل کو روشن کر کے اور اس کو اپنے پاس سے معرفت عطا کر کے گمراہی سے نجات دیتا ہے اور گمراہ ہونے نہیں دیتا۔ یہ سورۃ فاتحہ کا خلاصہ مطلب ہے جس کو پانچ وقت مسلمان نماز میں پڑھتے ہیں بلکہ دراصل اسی دعا کا نام نماز ہے اور جب تک انسان اس دُعا کو (۵۳ پر درد دل کے ساتھ خدا کے حضور میں کھڑے ہو کر نہ پڑھے اور اس سے وہ عقدہ کشائی نہ چاہے جس عقدہ کشائی کے لئے یہ دعا سکھلائی گئی ہے تب تک اس نے نماز نہیں پڑھی۔ اور اس نماز میں تین چیزیں سکھلائی گئی ہیں۔ (۱) - اول خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کی توحید تا انسان چاند سورج اور دوسرے جھوٹے دیوتاؤں سے منہ پھیر کر صرف اسی کچے دیوتا کا ہو جائے اور اس کی رُوح سے یہ آواز نکلے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تجھ سے ہی مدد چاہتا ہے اور دوسرے یہ سکھلایا گیا ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں اپنے بھائیوں کو شریک کرے اور اس طرح پر بنی نوع کا حق ادا کر دے، اس لئے دعا میں اھدنا کا لفظ آیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہم سب لوگوں کو اپنی سیدھی راہ دکھلا ۔ یہ معنے نہیں کہ مجھ کو اپنی سیدھی راہ دکھا ۔ پس اس طور کی دعا سے جو جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے بنی نوع کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے اور تیسری اس دعا میں یہ سکھلانا مقصود ہے کہ ہماری حالت کو صرف خشک ایمان تک محدود نہ رکھ بلکہ وہ ہمیں روحانی نعمتیں عطا کر جو تو نے پہلے راستبازوں کو دی الفاتحة : ٥ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے چاہتا ہوں “ ہونا چاہیے۔(ناشر)