نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 566

نسیمِ دعوت — Page 420

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۸ نسیم دعوت نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - امين ترجمہ: حمد اور استت اور مہما اس بڑے رب کے لئے خاص ہے جس کا نام اللہ ہے جو رب العالمین ہے۔ اور رحمان العالمین ہ اور رحیم العالمین ہے۔ اور مالک جمیع عالم یوم الدین ہے یعنی یہ مرتبہ پرستش کا خدا کے لئے مخصوص ہے کہ اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمی اور جزا سزا کے لئے مالکیت ایک عالم اور ایک رنگ میں محدود نہیں بلکہ یہ صفات اس کی بے انتہا رنگوں میں ظاہر ہوتی ہیں کوئی ان کا انتہا نہیں پاسکتا اور آسمان اور سورج وغیرہ کی ربوبیتیں یعنی پرورشیں ایک خاص رنگ اور ایک خاص قسم میں محدود ہیں اور اس اپنے تنگ دائرہ سے آگے نہیں نکلتیں اس لئے ایسی چیزیں پرستش کے لائق نہیں ۔ علاوہ اس کے ان کے یہ افعال بالا رادہ نہیں بلکہ ان سب کے نیچے الہی طاقت کام کر رہی ہے۔ پھر فرمایا کہ اے وہ سب کے رب کہ جو بے انتہا رنگوں میں اپنے یہ صفات ظاہر کرتا ہے۔ پرستش کے لائق تو ہی ہے اور سورج چاند وغیرہ پرستش کے لائق نہیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے مقام میں فرمایا ۔ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ یعنی : سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے یہ تمام چیز میں سورج چاند۔ آسمان ۔ آگ۔ پانی وغیرہ پیدا کی ہیں۔ چاند اور سورج کا ذکر کر کے پھر بعد اس کے جمع کا صیغہ بیان کرنا اس غرض سے ہے کہ یہ کل چیزیں جن کی غیر قو میں پرستش کرتی ہیں ۔ تم ہرگز ان کی پرستش مت کرو ۔ پھر اس سورۃ میں یعنی سورۃ فاتحہ میں اس بات کا جواب ہے کہ جب اکاش اور سورج اور چاند اور آگ اور پانی وغیرہ کی پرستش سے منع کیا گیا تو پھر کونسا فائدہ اللہ کی پرستش میں ہے کہ جو ان چیزوں کی پرستش میں نہیں تو دُعا کے پیرا یہ میں اس کا جواب دیا گیا کہ وہ خدا ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرتا ہے اور اپنے تئیں آپ اپنے بندوں پر الفاتحة : ٢ تا ٧ حم السجدة :٣٨