نسیمِ دعوت — Page 419
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۷ نسیم دعوت انسانوں کو زمین پر اور دریاؤں پر خود اُٹھایا۔ ایسا ہی زمین بھی ہر ایک چیز کو اٹھاتی ہے اور ہر ایک خا کی چیز کی سکونت مستقل زمین میں ہے ۔ وہ جس کو چاہے عزت کے مقام پر بٹھا وے اور جس کو چاہے ذلت کے مقام میں پھینک دے۔ پس اس طرح پر زمین کا نام مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔ ہوا یعنی استعارہ کے طور پر صحیفہ فطرت کے آئینہ میں یہ چاروں الہی صفات نظر آتی ہیں۔ غرض اسی طرح خدا نے چاہا کہ اپنی صفات کو مجازی مظاہر میں بھی ظاہر کرے۔ تا طالب حق مثالوں کو پا کر اس کے دقیق در دقیق صفات پر اطمینان پکڑ لے۔ اب اس تمام تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ چار مجازی دیوتے جو وید میں مذکور ہیں۔ چار مجازی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔ چنانچہ اکاش مجازی طور پر ربوبیت گبری کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اور سورج رحمانیت کی صفت سے موصوف ہے اور چاند رحیمیت کی صفت سے حصہ دیا گیا ہے اور زمین مالک یوم الدین کی صفت سے بہرہ یاب ہے اور یہ چاروں صفات مشہود ومحسوس ہیں۔ انہی امور کی وجہ سے موٹی عقل والوں نے در حقیقت ان کو دیوتے قرار دیا ہے اور ان کو رب النوع اور قابل پرستش سمجھا ہے ۔ پس ان لوگوں کے رڈ کے لئے خدا تعالیٰ اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورۃ فاتحہ میں فرماتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ لا دیوتا سنسکرت میں رب کو کہتے ہیں جو کسی کی ربوبیت کرتا ہے یعنی پرورش کرتا ہے۔ پس سورج بجائے خود ایک رب ہے یعنی دیوتا ہے اور چاند بجائے خود ایک رب ہے یعنی دیوتا ہے۔ ان تمام ربوں یعنی دیوتاؤں کے سر پر ایک بڑا رب ہے جو مد بر بالا رادہ ہے اور وہی خدا ہے۔ اس کا نام ربّ العالمین ہے یعنی سب کا رب اور تمام ریوں کا بھی رب۔ ارادہ اور اختیار سے کام کرنے والا وہی ایک ہے باقی سب کلیں ہیں جو اُس کے ہاتھ سے چلتی ہیں۔ پس عبادت اور حمد کے لائق وہی ہے۔ اسی واسطے فرمایا۔ الحمد لله ربّ العالمين- منه