نسیمِ دعوت — Page 418
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۶ نسیم دعوت اس کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بغیر موجودگی عمل کے درختوں پر اپنی عنایت اور کر پا ظاہر کرتا ہے کیونکہ درخت ننگ دھڑنگ کھڑے ہوتے ہیں اور خزاں کے مارے ہوئے ایسے ہوتے ہیں کہ گویا مردے ہیں جو زمین میں گاڑے گئے ہیں اور تہی دست فقیروں کی طرح ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ پس سورج دیوتا بہار کے موسم میں موج میں آکران کو لباس بخشتا ہے اور ان کا دامن پھلوں اور پھولوں سے بھر دیتا ہے اور چند روز میں ان کے سر پر پھولوں کے سہرے باندھتا ہے اور سبز پتوں کی ریشمی قبا ان کو پہناتا ہے اور پھلوں کی دولت سے ان کو مال مال کر دیتا ہے اور اس طرح پر ایک شاندار نوشہ ان کو بنا دیتا ہے پس اس کی رحمانیت میں کیا شک رہا جو بغیر کسی سابق عمل کے ننگے درویشوں پر اس قدر کر پا اور مہربانی کرتا ہے۔ اس قسم کے استعارات وید میں بہت موجود ہیں کہ اول شاعرانہ طور پر معلوم ہوتے ہیں اور پھر ذرا غور کریں تو کوئی علمی چمک بھی ان میں دکھائی دیتی ہے۔ پھر سورج کے بعد وید کی رو سے چاند دیوتا ہے کہ وہ کمزوروں کے عملوں کو دیکھ کر اپنی مدد سے ان کے اعمال انجام تک پہنچاتا ہے یعنی بہار کے موسم میں درخت پھل تو پیدا کر لیتے ہیں لیکن اگر چاند نہ ہوتا تو یہ عمل ان کا ناقص رہ جاتا اور پھلوں میں تازگی اور فریبی اور طراوت ہر گز نہ آتی ۔ پس چاند ان کے عمل کا نتم ہے اس لئے اس لائق ہوا کہ مجازی طور پر اس کو رحیم کہا جائے سووید اس کو رحیم قرار دیتا ہے سو استعارہ کے طور پر کچھ حرج نہیں۔ پھر چاند کے بعد دھرتی دیوتا ہے جس نے مسافروں کو جگہ دینے کے لئے اپنی پشت کو بہت وسیع کر رکھا ہے ہر ایک پھل درخت پر مسافر کی طرح ہوتا ہے آخر کار مستقل سکونت اس کی ا زمین پر ہوتی ہے اور زمین اپنے مالکانہ اختیارات سے جہاں چاہے اس کو اپنی پشت پر جگہ دیتی ہے اور جیسا کہ خدا نے قرآن شریف میں فرمایا۔ وَحَمَلَنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کہ ہم نے بنی اسرائیل : اے