نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 566

نسیمِ دعوت — Page 417

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۵ نسیم دعوت اور موٹا اور تازہ کر دیتا ہے پھر جب وہ پھل طیار ہو جاتے اور اپنے کمال کو پہنچ جاتے ہیں تو زمین ان کو اپنی مالکانہ حیثیت سے اپنی طرف گراتی ہے تا وہ اپنی جزا سزا کو پہنچیں ۔ پس اگر وہ عمدہ اور نفیس پھل میں تو زمین پر ان کی بڑی عزت ہوتی ہے اور وہ قابل قدر جگہوں میں رکھے جاتے ہیں اور اگر وہ رڈی ہیں تو خراب جگہوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور یہ سزا جزا گویاز مین کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ جو خدا نے اس کی فطرت کو دے رکھی ہے کہ اچھے پھل کی قدر کرتی ہے اور بُرے پھل کو ذلیل جگہ رکھتی ہے۔ غرض وید میں بطور استعارہ کے یہ چار نام ہیں جو چار بڑے بڑے دیوتاؤں کو عطا ہوئے ہیں۔ اول اکاش یعنی آسمان جس کو اندر دیوتا بولتے ہیں وہ پانی کا داتا ہے اور قرآن شریف میں ہے کہ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْ حَيْ ا یعنی ہر ایک چیز (۵۰) پانی سے ہی زندہ ہے۔ اس لئے یہ مجازی دیوتا یعنی اندر جس کو اکاش کہنا چاہئے سب مجازی دیوتاؤں سے بڑا ہے جس کی بغلوں میں سورج اور چاند پر ورش پاتے ہیں یہ بہ نسبت اوروں کے ربوبیت عامہ کا دیوتا ہے بعد اس کے سورج دیوتا ہے جو رحمانیت کا مظہر ہے اس کی ربوبیت چاند سے زیادہ اور اکاش یعنی اندر دیوتا سے کم ہے ۔ وہ کام جو لاحاشيه: کوئی یہ خیال نہ کرے کہ حقیقت میں یہ سب دیوتا ہیں بلکہ یہ سب ایک ہی مالک کے قبضہ میں ہیں۔ اور انسان کے فائدہ کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم نے اس جگہ دیوتا کا لفظ محض وید کا استعارہ بیان کیا ہے کیونکہ ان چاروں کے فیوض بموجب وید کے ایسے طور سے جاری ہیں کہ گویا اختیار سے یہ فیض پہنچا رہے ہیں مگر یہ سب خدا کی مخلوق ہیں اپنے ارادہ سے کوئی کام نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ کیا کام کرتے ہیں گویا مردہ بدست زندہ ہیں یہ چار صفات کے نمونہ جوا کاش اور سورج اور چاند اور زمین میں پائے جاتے ہیں یہ انسانوں کو غور کرنے کے لئے دیئے گئے ہیں تا صفات الہی کے سمجھنے میں یہ مدد یو میں مثلاً آریہ لوگ خدا کی رحمانیت سے منکر ہیں اور حالانکہ وید سورج میں استعارہ کے رنگ میں خود رحمانیت کی صفت قرار دیتا ہے یه اسی غرض سے ہے کہ تا انسانوں کو اس تقریب سے خدا کی رحمانیت پر نظر پڑے۔ منہ ا الانبياء : ٣١