نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 566

نسیمِ دعوت — Page 409

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۷ نسیم دعوت عاشق تھا اسی میں اس نے جان دی۔ غرض اسلامی تاریخ بھی قریباً ایک ہزار برس سے اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ملک آریہ ورت بت پرستی اور مورتی پوجا کا ایک بھاری مرکز ہے۔ اس زمانہ کا کون ثبوت دے سکتا ہے کہ جب ان کروڑ ہ لوگوں کی طرح جو بت پرست اور عناصر پرست نظر آتے ہیں۔ وید مقدس کی تعلیم سے اس ملک میں کروڑ ہا خدا پرست موحد بھی موجود تھے۔ جگن ناتھ جی کا قدیم بت خانہ اور ایساہی اور بعض پرانے بت خانے جن کی عمارت ہزار ہا برس کی معلوم ہوتی ہے صاف طور پر گواہی دے رہے ہیں کہ یہ بت پرستی اور مورتی پوجا کا مذہب کچھ نیا نہیں بلکہ قدیم ہے۔ ایسا ہی بھاگوت وغیرہ کتابیں جو ہزار ہا برس کی تالیف معلوم ہوتی ہیں جن کو سناتن دھرم والے سیدھے سادھے ہندو بڑے پیار سے پڑھا کرتے ہیں اس قدامت شرک کے گواہ ہیں۔ اس کے ساتھ پرانے کتبے بھی اس ملک میں ایسے پائے گئے ہیں کہ وہ ایک پرانے زمانے کی حالت کی ایک آئینہ کی طرح شکل دکھلا رہے ہیں اور بلند آواز سے گواہی دے رہے ہیں کہ اُس وقت بھی اس ملک میں بت پرستی تھی اور جہاں تک تاریخ کا سلسلہ صفائی سے چل سکتا ہے یہی ظلمت شرک اور عناصر پرستی اور مورتی پوجا کی رسوم ہر ایک زمانہ میں پائی جاتی ہیں اور ایسی گلے کا ہار ہو رہی ہیں کہ جب تک ایک ہند و اسلام اختیار نہ کرے یہ شرک کا داغ اس سے بکلی دور ہی نہیں ہو سکتا گو آریہ سماجی بنے یا کچھ اور ہو جائے زمانہ دراز سے جس کا ابتدا معلوم کرنا مشکل ہے مورتی پوجا اور عناصر پرستی کا مذہب آریہ قوم میں چلا آتا ہے اور دوسری قوموں کے مورخوں کو کبھی یہ نصیب نہیں ہوا کہ وہ گواہی دیں کہ آریہ ورت میں بھی کسی وقت تو حید تھی اور اس زمانہ دراز میں اگر ہم یہ کہیں کہ کروڑہا ۴۳) پنڈت آریہ ورت میں عناصر پرستی کے حامی گذرے ہیں تو یہ کچھ مبالغہ نہ ہوگا۔ پس ایسے پنڈتوں کے وجود سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمیشہ تمام ملک ایک سمندر کی طرح بت پرستی