نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 566

نسیمِ دعوت — Page 408

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۶ نسیم دعوت تھے جو بُت پرست اور عناصر پرست ہو چکے تھے۔ اس صورت میں خود عقل قبول کرتی ہے کہ ان دنوں میں ان پر ہمنوں نے بہت کچھ مشرکانہ حاشیے وید پر چڑھائے ہوں گے اور اس بات کے اکثر محقق آریہ ورت کے قائل ہیں کہ بعض زمانوں میں وید بڑھائے گئے اور بعض میں گھٹائے گئے اور بعض وقت جلائے گئے اور جب آریہ قوم نے اندرونی لڑائیوں سے فراغت پائی تو بیرونی حکومتوں کے پنجہ میں پھنس گئے ۔ اسلامی حکومت بھی سات سو برس تک اس ملک میں رہی۔اس لمبے زمانہ میں بھی جو کچھ مسلمانوں نے آریہ قوم کا عقیدہ دیکھا وہ بُت پرستی اور آتش پرستی وغیرہ تھا۔ اسی زمانہ میں شیخ سعدی بھی ایک مرتبہ اس ملک میں آئے تھے اور بت پرستی کا بڑا از ور تھا۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب بوستان میں فرماتے ہیں:۔ بنک را یکے بوسه دادم بدست که لعنت بروباد و بر بت پرست گائے کے لئے جس قدر آریہ صاحبوں کو جوش ہے وہ بھی دراصل مخلوق پرستی کی ایک جڑھ ہے ور نہ ایک حیوان کے لئے اس قدر جوش کیا معنے رکھتا ہے۔ قریباً تیرہ سو برس ہوتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک کا ایک حصہ فتح کر لیا تھا اس وقت بھی اس ملک میں عام طور پر بت پرستی اور آتش پرستی وغیرہ پھیلی ہوئی تھی پس جہاں تک تاریخ کا قدم روشنی میں ہے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آریہ ورت پر کوئی ایسا زمانہ بھی آیا تھا کہ وہ خدا پرست تھے۔ مسلمانوں پر یہ اعتراض آریوں کا کہ ان کے بادشاہوں نے ہمارے بزرگوں کو جبراً بت پرستی سے چھڑا کر مسلمان بنایا تھا یہ بھی صاف بتلا رہا ہے کہ اب تک آریہ (۲۲) صاحبوں کو بت پرستی سے بہت پیار ہے ۔ عملی طور پر توحید سے کچھ تعلق ثابت نہیں ہوتا اس پر یہ کافی دلیل ہے کہ وہ بت پرستوں کے مسلمان ہونے سے بہت ناراض ہیں ۔ ایک بت پرست حقیقت رائے کا قصہ بھی اسی غرض سے گھڑا گیا ہے جس کو بقول اُن کے کسی مسلمان بادشاہ نے مورتی پوجا سے جبراً چھڑا کر مسلمان کرنا چاہا تھا مگر وہ لڑ کا بت پرستی پر