نجم الہدیٰ — Page 58
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۵۸ نجم الهدى اا اے زمین سن جو میں کہتا ہوں يا أرضُ اسمعى ما أقول و یا سماء اشهدی اور اے آسمان گواہ رہ هذا مكتوب إلى خواص یہ ایک خط ہے جو خواص لوگوں اور قوموں الناس ونخب الأقوام، من عبد الله کے برگزیدوں کی طرف لکھا گیا ہے اور یہ خدا أحمد الذى نُصِّلَ له أسهم کے بندے احمد کی طرف سے ہے جس کے لئے ملامت کے تیروں پر پیکان رکھے گئے ۔ اور میں الملام، وأرجو أن لا يُعجَلَ بدم، امید رکھتا ہوں کہ بُرا کہنے کے لئے جلدی نہ کی جائے ۔ اور میری لکڑی آزمانے سے پہلے پھینک ولا ينبذ عودي قبل عجم، بل يسمع قولى بالوقار والتؤدة، ثم نہ دی جائے بلکہ میری بات کو آہستگی سے سنا جائے پھر اس بات کی پیروی کی جائے کہ جو خدا تعالیٰ وأدعو الله أن يُلهم القلوب ما هو دلوں میں ڈالے۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ أصوب وأولى، و نعم الهادی وہ امر دلوں میں ڈالے جو نہایت سیدھا اور بہتر يُتبع ما يُلقي الله في الأفئدة۔ ہے اور وہی اچھا ہادی اور اچھا آتا ہے۔ ونعم المولى۔ زمین بشنو آنچه می گویم و آسمان گواه باش این نامه ایست که بسوی مردم چیده و کلا نان ملت با نوشته شده از قبل بنده خدا احمد آنکه از برائی او بر تیر با پیکان نکوهش در پوسته اند - امید دارم که در نکوهیدن شتاب کاری روا نداشته و پیش از آزمودن سرگی و ناسرگی نقد مرا از دست انداخته نشود ۔ بلکه مناسب است گفتار مرا با بستگی و آرامی گوش کرده باز پیروی آنچه خدا در دل بریزد نموده شود - از خدا میخواهم دلها رار مهمونی بفرماید بآنچه راست و بهتر استلا انا أشهير باسم میرزا غلام احمد بن میرزا غلام مرتضیٰ القادیانی و القاديان قرية مشهورة من ملک الهند من فنجاب قريب من لاهور فی ضلع گورداسپور وهذه علامة تكفى لمن ارادان يكتب الى مكتوبًا۔ منه