نجم الہدیٰ — Page 49
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۹ نجم الهدى مارے غم کے ایسے تھے جیسا کہ کوئی گھٹنوں پر گرا الهم كمحقوقفين۔ وألقوا عصا جاتا ہے ۔ تب انہوں نے ایک اور ریاست میں تسیارهم بـ م بدار رياسة غمرتهم بنوال | ایک عارضی رہائش اختیار کی اور اس ریاست نے من غير سؤال ، ورحمت إذا رأت کسی قدر نیک سلوک اُن کے ساتھ کیا اور بغیر کسی آثار خصاصة ولو بقصاصة ۔ ثم إذا سوال کے اُن کی ہمدردی کی اور اُن کی تنگدستی کے کچھ نشان دیکھ کر اُن پر رقم کیا اگر چہ اُن کا سلوک 10 ھ جاء عهد الدولة البرطانية ومضى وقت الغارات الشيطانية، فأمنا بها بہت کم اور ایک نا کافی سلوک تھا۔ پھر جب زمانہ دولت برطانیہ کا آیا اور شیطانی غارتوں کا وقت ونُـجـيـنـا مـن الفتن الخالصة۔ ويم گذر گیا تو ہم اُس سلطنت کے ذریعہ سے امن آباؤنا تربة وطنهم مع رفقة من میں آگئے اور ہمارے بزرگوں نے پھر اپنے وطن کی طرف مع رفیقان سفر کے مراجعت کی اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے تھے اور بعض دیہات ہمارے اور المهاجرين، شاكرين لله ربّ | العالمين، وردّ إلينا بعض أموالنا بعض مال ہمارے ہمیں واپس دیئے گئے اور ہمارا وقرانا، والبخت الفار أتانا ۔ وحقت بخت برگردیدہ پھر ہماری طرف آیا اور دو خوشیاں غم واندوہ چوں شخص بودند که نزدیک است بزانو بر زمین افتد ۔ آخر برائے چندے در ریاستے دیگر رخت اقامت بیانداختند - صاحب ریاست با اوشان با نیکی پیش آمد و بے مسئلت بر راہ ہمدردی رفتار کرد و نشان تنگی و خواری بر پیشانی انها خوانده بر حال زارشان ترحم آور داگر چه هم سلوک و رفتارش فراخور حال وشانِ شان نبود و باز چون عہد میمنت مهد سلطنہ برطانیہ سایۂ ہما پایه گستر دو روزگار تاخت و تاراج غولان ناہنجار سپری شد ایں دولہ علیہ باعث بر امن و آرام شده پدران ما با رفیقان عودت به قرارگاه خویش فرمودند و لب به سپاس ایزدی کشودند بعضی از قریه با و املاک بما باز پس گردید و