نجم الہدیٰ — Page 50
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى بنا فرحتان كزهر البساتين فرحة باغوں کے پھولوں کی طرح ہمارے وجود میں الأمن وفرحة الحُريّة في الدين پھوٹ نکلیں ۔ ایک امن کی خوشی اور دوسری دینی وما كان لي حظ من رئاسة آبائی آزادی کی خوشی ۔ اور مجھے اپنے معظم اور مکرم العبقرييين، فصرتُ بعد موت أبي بزرگوں کی ریاست سے کچھ حصہ نہیں ملا اور میں كالمحرومين۔ وقد أتى على حين اپنے باپ کی موت کے بعد محروموں کی طرح ہو من الدهر لم أكن شيئا مذكورًا، گیا اور میرے پر ایک ایسا زمانہ گذرا ہے کہ بجز وكنت أعيش خفيًّا و مستورًا، لا چند گاؤں کے لوگوں کے اور کوئی مجھ کو نہیں جانتا يعرفني أحد إلا قليل من أهل القرية تھا یا کچھ اردگرد کے دیہات کے لوگ تھے کہ و نفر من القُرى القريبة۔ فكنت إن روشناس تھے اور میری یہ حالت تھی کہ اگر میں کبھی قدمت من سفر فما سألني أحد من سفر سے اپنے گاؤں میں آتا تو کوئی مجھے نہ پوچھتا ١٠ أين أقبـلـت ، وإن نزلت بمكان فما کہ تو کہاں سے آیا اور اگر میں کسی مکان سأل سائل بأي مكان حللت میں اُترتا تو کوئی سوال نہ کرتا کہ تو کہاں اُترا وكنت أحب هذا الخمول وهذا ہے اور میں اس گمنامی اور اس حال کو بہت الحال، وأجتنب الشهرة والعزّة اچھا جانتا تھا اور شہرت اور عزت اور اقبال سے آب رفته در جوئے ما باز آمد و دوتا شادی و خور می چوں شگفتن غنچه با از نهاد ما سر برزد ۔ یکے خورمئی امن جان و دیگرے آزادی دین و ایمان - من از امارت بزرگان خود بهره نیافتم و بعد از مرگ پدر چوں محرومان گردیدم و روزگارے بر سر من گذشته که غیر از تنی چند از اهالی ده یا متعددی از نواح مرانه می شناخت ۔ و ہرگاه چنانچه از سفر باز آمدن اتفاق مے افتاد کسے از اہل دو نمی پرسید از کجا می آئی۔ واگر جائے فرومی کشیدم کے لب نمی کشور گجا فرود آمدی - اما من این گمنامی وکس میرسی را از جان دوست داشتم و نهاد من به طوری افتاده بود که پوشیدگی و بریدن از مردم را