نجم الہدیٰ — Page 47
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۷ نجم الهدى من نعمه إلَّا فـرطـات ضيّقت نعمتوں سے وہ محض اس لئے دور ڈالے گئے کہ وہ حد سے زیادہ گناہوں کے مرتکب ہو چکے تھے صدورهم، وملئت من الظلمات قبورهم، فما كانوا مبصرين۔ هذا ما جنہوں نے اُن کے سینوں کو تنگ کر دیا اور ان کی قبروں کو اندھیرے سے بھر دیا سووہ دیکھنے سے أردنا شيئا من ذكر دلائل الإسلام، محروم رہ گئے ۔ یہ تھوڑے سے دلائل اسلام کا ہم والآن نرجع إلى المرام فاسمعوا نے ذکر کیا ہے اور اب ہم اصل مقصود کی طرف متوجهين۔ رجوع کرتے ہیں۔ أيها الإخوان ۔ أقص عليكم نبذا اے بھائیو! میں اپنا کچھ قصہ آپ کے من قصتي، وما كتب من فضل الله پاس بیان کرتا ہوں اور وہ جو خدا تعالیٰ کے فضل میں سے میرے حصے میں لکھا گیا اور في حصتي، وأدخل في دعوتي، فإني میری دعوت میں داخل کیا گیا کسی قدر اس کو أُمرت أن أُبـلـغـهـا إلـيـكـم يا معشر لکھتا ہوں کیونکہ میں حکم دیا گیا ہوں کہ وہ الطلباء، وأُؤديهـا كـديـن لازم لا دعوت تم تک پہنچاؤں اور قرض کی طرح اُس يسقط بدون الأداء۔ فاعلموا أني کو ادا کروں ۔سو واضح ہو کہ میں خاندان امرؤ من بيت العزة والرياسة، عزت اور ریاست سے ایک آدمی ہوں۔ خدا از نعمت ہائے خودشان دور انداخت به سبب اینکه در سیاه کاری و نا هنجاری پا از پایان برون گذاشتند از پنجا است که سینه باشان تنگ و گور با پر از دود و تاریکی گردید لا جرم از بینائی محروم ماندند - این نبذے از دلائل اسلام است اکنون باصل مطلب مے گرائیم ۔ برادراں ! اکنون مے خواهم پاره از احوال خود شرح بدهم وشمه از ان را در معرض بیان بیاورم که از فضل خدا بر من ارزانی شده و در دعوت من داخل است- چه من مامورم بایں کہ آں دعوت را در پیش شما رسانم و چون وام ادا سازم پوشیده نماند که من از دودمان عزت و امارت می باشم