نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 550

نجم الہدیٰ — Page 11

روحانی خزائن جلد ۱۴ 11 نجم الهدى آناء الليل يصرخون ويتأوهون، ولا وقتوں میں فریاد کرتے اور آہیں مارتے ہیں ۔ يعلم أحد إلى أى جهة يُجذبون کوئی نہیں جانتا کہ کس طرف کھنچے جاتے اور ويقلبون۔ يُصب عليهم مصائب پھیرے جاتے ہیں ۔ ان پر مصیبتیں پڑتی ہیں فيصدقهم يتحملون، ويُدخلون فی اور وہ برداشت کرتے ہیں ۔ آگ میں داخل نيران فيقال: سلام فيحفظون کے جاتے ہیں ۔ پس کہا جاتا ہے کہ سلام پس ويُعصمون۔ أولئک هم الحامدون بچالے جاتے ہیں ۔ وہی سچے ثنا خوان اور خدا حقا وأولئك هم الـمـقـدسـون کے مقرب اور ہمراز ہیں۔ اور ان کو خوشخبری ہو والنجيون، فطوبى لهم ولمن صحبهم اور ان کے ہم صحبتوں کو کیونکہ وہ شفاعت کرنے فإنهـــم الــمــنــفــردون، والشافعون والے اور شفاعت قبول کئے گئے ہیں۔ اور یہ وہ المشقعون۔ وهذه مرتبة لا تعطى إلا مرتبہ ہے جو بجز درگاہ کے پیاروں کے اور کسی کو لمحبوبي الحضرة، وإنما جاء الإسلام نہیں ملتا۔ اور اسی کے بیان کے لئے اسلام آیا لتبيين تلك المنزلة ليخرج الناس من ہے تا کہ نقصان کے گڑھے سے لوگوں کو نکالے وهاد المنقصة، ويوصلهم إلى حظيرة اور تقدس کے احاطے میں پہنچاوے اور سعادت القدس ويهدى إلى مقام السعادة، و كے مقام تک رہبری کرے اور غافلوں پس محبوب خود را یاد آورند و از چشم سر اشک روان سازند و در پرده شب نالها کشند و آه زنند کسی بر سر وقت شال آگاه نه که بلکدام طرف کشیده شوند - مصیبتها بر سر اوشان فرو ریزد و برمی تابند ۔ در آتش انداخته شوند پس گفته شود سلام در زمان رستگار و ایمن گردند - حقیقه اوشان شناگویان خدا ونزدیک و همر از دیند و این مرتبه ایست که غیر محبوبان الهی را دست بهم ند ہد ۔ اسلام جہت کشودن ہمیں راز آمده که از مغاک زیان مردم را بیرون کشد و در ساحت تقدس رساند و تا بمقام سعادت کشاند و غافلان را از راه این سرزنش کوفت و آزاری رساند