نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 550

نجم الہدیٰ — Page 10

روحانی خزائن جلد ۱۴ 1۔ نجم الهدى والبركات والتحية۔ يرغب فيه اور برکتیں اور درود اور تحیت ہوں ۔اسی امر مذکور کیلئے مجاہدہ کرنے والے کوشش کرتے ہیں اور المجاهدون، وإلى الله متبتلون، نیز وہ جو خدا کی طرف منقطع ہوتے اور اس کی الذين في خيام حبه يسكنون، و به محبت کے خیموں میں رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ يحيون، وله يموتون، و علیه زنده اور اسی کے لئے مرتے ہیں اور اس پر توکل يتوكلون، ولحكمه بصدق القلب کرتے اور دل کی سچائی سے اس کی اطاعت اختیار کرتے ہیں اور رواں آنسوؤں کے ساتھ يطيعون، ولأمره بهمل العين يتبعون اس کے حکم کی پیروی کرتے اور اس کی رضا مندی وفي مرضاته يفنون، وفي أحزانه کی راہوں میں فنا ہوتے ہیں اور اس کے غموں يذوبون، وبأنسه يبقون ۔ وله میں گداز ہوتے اور اس کے انس کے ساتھ بقا تتجافى جنوبهم من المضاجع پاتے ہیں اور اس کے لئے رات کو خوابگا ہوں ويتحتشون، ويبيتون سُجدًا وقيامًا سے علیحدہ ہوتے اور اس کی بندگی کرتے ہیں اور قیام اور سجود میں رات کاٹتے ہیں اور غفلت ولا يغفلون، ويأخذهم القلق | نہیں کرتے اور بے آرامی ان کو پکڑتی ہے۔ فيذكرون حِبَّهم ويبكون، وتفيض | پس اپنے دوست کو یا د کر کے روتے ہیں اور أعينهـــم مـــن الدمـع وفی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور رات کے کوشندگان جهت آن می کوشند و و ہم انہائیکہ از ہمہ بسوئے او پر دازند و در خیمہ ہائے محبت وے قرار گیرند و با او بزیند و برائے او بمیرند و بر او توکل بکنند و از صدق دل پیروی فرمودہ وی بنمایند ۔ و با دیده گریان غاشیه اطاعت وی بر دوش جان بردارند و خود را در راه رضائی او گم بکنند ۔ وچوں موم در کوره غم وی بگدازند و بقائے خود در انس وی بینیند ۔ وشب ہارا برائے اواز خوابگاہ بر کنار بشوند و در کجود و قیام شب را بروز آرند از غفلت دور باشند ۔ قلق و کرب بر اوشان وارد آید