نجم الہدیٰ — Page 12
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲ نجم الهدى يُنذر الغافلين ويصدم قلوبهم بوعيد کو اس دھمکی سے کوفتہ کرے کہ قطع تعلق کی مدى القطعية، ومـا تـعـلـم ما الحمد كاردیں تیار ہیں ۔ اور تجھے کیا خبر ہے کہ حمد کہتے کس کو ہیں اور کیوں اس کا بلند پایہ ہے اور والتحميد، ولم اعلى مقامه الربّ | الوحيد۔ وكفى لك من عظمته أن اُس کی عظمت سمجھنے کے لئے تجھے یہ کافی ہے کہ خدا نے قرآن شریف کی تعلیم کو حمد سے ہی الله ابتدأ به كتابه الكريم، ليُبين للناس عظمة الحمد ومقامه العظيم۔ وأنه لا يفور من قلب إلَّا بعد المحوية شروع کیا ہے تا لوگوں کو حمد کے مقام کی بلندی سمجھا دے جو کسی دل میں سے بجز گدازش اور محویت کے جوش نہیں مار سکتی۔ اور اُسی وقت والذوبان، ولا يتحقق إلا بعد متحقق ہوتی ہے جب کہ مارنفس امارہ کچلا الانسلاخ ودوس أهواء النفس | جائے اور نفسانی چولہ ا تا رلیا جائے اور یہ حمد کسی الثعبان، ولا يجرى على لسان إلا بعد زبان پر جاری نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ پہلے اضطرام نار المحبة في الجنان بل لا دل میں محبت کی آگ بھڑ کے ۔ بلکہ یہ وجود يتحقق إلا بعد زوال أثر الغير من پذیری نہیں ہو سکتی جب تک کہ غیر کا نام ونشان الموهوم والموجود، ولا يتولّد بكلى زائل نہ ہو جائے اور پیدا نہیں ہو سکتی که نزد یک است کار و قطع تعلق پاره پاره شان ساز د۔ تو چه دانی حمد چیست و از چه روایں پائیڈ بلندی وے را حاصل است - بزرگی وی را از ینجا تو اں دریافت کہ خدائے تعالیٰ تعلیم قرآن را آغاز از حمد کرد تا مردم بر مقام بلندش آگاه شوند و فواره حمد از دل احدی جوش نزند تا محویت و گدازش میسر نیاید و در وقتی سر بر زند و تحقق شود که ما نفس اماره پامال و بکلی بدر آمدن از پوست انا نیت و نفسانیت دست دہد ۔ و ایس ستایش ابدان می شود بر زبانی روان شود تا وقتیکه زبانه محبت درد لی سر برنز ندیل ممکن نیست صورت وجود بیز یرد تا اسم و رسم غير بالمره ناپید نشود و هرگز