نجم الہدیٰ — Page xx
سے اظہار ہمدردی فرمائی ہے اس لئے کہ آپ کی دعوت کے قبول کرنے میں ان کی بھلائی ہے اور یہ اُن تحریروں کا بدل ہے جو اُن دنوں مخالفوں کی طرف سے نکلیں اور اِس میں عمدہ عمدہ ملّتِ اسلامی کے نکتے اور دقائق بیان کئے گئے ہیں۔اور یہ رسالہ مخالفوں کے لئے ایک فریاد رس ہے۔(صفحہ ۱۸،۱۹ جلد ھٰذا) اِس رسالہ میں حضرت اقدسؑ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ ’’احمد‘‘ اور ’’محمد‘‘ کی حقیقت نہایت دلکش انداز میں بیان فرمائی ہے اور آپ ؐکے ایسے کمالات اور محاسن کا ذکر فرمایا ہے جن سے آنحضورؐ کا سب انبیاء سے بالا و برتر ہونا ظاہر ہوتا ہے۔نیز دجّالی فتن اور ان فتن کے ازالہ کے لئے اپنا خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور و مبعوث ہونا بدلائل قاطعہ ثابت فرمایا ہے۔رازِ حقیقت یہ رسالہ ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ ء کو شائع ہوا۔اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح حالات زندگی درج فرمائے ہیں اور ان کے صلیب پر سے زندہ اتارے جانے اور سفر کشمیر اختیار کرنے اور سری نگر محلہ خان یار میں اُن کی قبر کے موجود ہونے پر روشنی ڈالی ہے اور اُن کے مزار کا نقشہ بھی دیا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی عربی دانی کا سکّہ جمانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک عربی الہام اتعجب لامری پر جو یہ اعتراض کیا تھا کہ عجب کا صلہ لام نہیں آتا اِس کا نہایت معقول اور مدلّل جواب احادیثِ نبویہؐ اور زبان عرب کے محاورات کی مثالیں پیش کر کے دیا ہے جس سے مولوی محمد حسین بٹالوی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق سخت ذلّت اور علمی پردہ دری ہوئی۔نیز اشتہار مباہلہ کی حقیقت بیان فرمائی ہے جس کی وجہ سے بٹالوی نے آپؑ کے خلاف گورنمنٹ کے پاس بہت سی شکایات کر کے اور گمراہ کن اطلاعات پہنچا کر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔کشف الغطاء یہ رسالہ ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۸ ء کو شائع ہوا۔چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کے اور آپ کے سِلسلہ کے خلاف غلط واقعات گورنمنٹ کو پہنچا رہے تھے اس لئے حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ رسالہ بایں غرض لکھا کہ تا گورنمنٹ آپ کے اور آپ کی جماعت کے صحیح خیالات اور آپ کے مشن کے اصولوں