نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 550

نجم الہدیٰ — Page 137

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۷ نجم الهدى ثم جعل يُخبر قومـه کـالفرحین پھر اپنی قوم کو خوش خوش خبر دیتا پھرا اور بتلاتا پھرا المبشرين، وينادى أنه ارتد من دين که به شخص مسلمان ہو گیا تھا پھر ہندو دین قبول المسلمين۔ وأكل معه وتغدى وما کرنے کے لئے آیا ہے۔ اور وہ شخص اس سے اپنا درى أنه سيتردّى، و كان هو يخفى مولد چھپاتا رہا تا اس کے گھر کی اطلاع نہ ہو مولده ومنبعه، لكى يُجهل مربعه ۔ اور وہ شہر میں چھپا چھپا پھرتا تھا اور اس کا قرار گاہ وكان يسير في المصر مواريًا عن كسى كو معلوم نہ تھا یہاں تک کہ لیکھرام کے اجل الخلق عيانه، و مخفيا مقره و مكانه مقدر کا دن پہنچ گیا۔ اور یہ شخص اُس دن اُس کی حتى انتهى الأمر إلى يوم موعود، عين غفلت کے وقت دوستوں کی طرح اُس کے فدخل عليه على غرارته کمحب و پاس گیا اور اس کو اس قدر مہلت دی کہ جس میں ودود۔ وأمهله ريثما يصفوا الوقت حاضر باشوں سے فراغت ہو جائے اور جو ملنے من الحضار، ويذهب من جاء من کے لئے آئے ہیں وہ چلے جائیں ۔ جب اس الزوار۔ ثم سطا علیه کرجل کے لئے فرصت کا وقت نکل آیا اور لیکھرام کو اس فاتک کميش الهيجاء ، وجنبه نے غفلت میں پایا تب یکدفعہ اُس پر ایک بسكين بلغ إلى الأحشاء ، و چابک دست انسان کی طرح حملہ کیا اور کارد او مژده با داد که این دین اسلام پذیرفته بود حالیا آمده است که دیگر کیش ہنود را قبول نماید ۔ وآں کس مولد خودرا بروی پوشیده داشت و در شهر نهان و پوشیده میز لیست حتی احدے آگاہ از قرارگاهش نبود۔ تا این که لیکھرام را اجل مقدر فرارسید - آن کس در نرمی دوستاں او روزے علی الغفلہ در پیش وے برفت و در انتظار آن نشست که مجلس از حاضران پرداز دو عسل از غوغائے مگس مامون گردد۔ چوں وقت فرصت بدست آمد و لیکرام را غافل یافت بیک ناگہ چوں شیر گرسنه بر وے بر جست و با کارد تیز شکمش را