نجم الہدیٰ — Page 138
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۸ نجم الهدى ٢٦ أشـرعــه إلى الأمعاء ، حتى قطعها كے ساتھ اس کی پسلی تو ڑ کر اس کا رد کو انتڑیوں (٢٦) وتركها في سيل الدم كالغناء۔ وكان تک پہنچا دیا اور پھر انتڑیوں کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے هذا يوم بعد يوم العيد * كما قرر من کیا کہ وہ خون کے اوپر ایسا تیرتی تھیں جیسے کہ الله في المواعيد۔ وإذا ظن القاتل أنه سیلاب کے اوپر خس و خاشاک تیرتا ہے اور یہ دن عید کے دن سے دوسرا دن تھا جیسا کہ أخرج نفسه الخسيسة، فهرب خدا تعالیٰ کے وعدہ میں مقرر تھا اور جب قاتل وترك داره الخبيثة، ثم غاب عن نے دیکھا کہ اس نے اس کا کام تمام کر دیا۔سو وہ أعين الناس كالملائكة ۔ وما رآه أحد اس کے گھر کو چھوڑ کر بھا گا پھر فرشتوں کی طرح إلى هذه المدّة، فما أعلم أصعد إلى آنکھوں سے غائب ہو گیا اور اس وقت تک کسی کو السماء أو ستره الله بالرداء ۔ وأما اس كا نشان نہ ملا ۔ نہ معلوم کہ وہ آسمان پر چلا گیا یا خدا نے اس کو اپنی چادر کے نیچے ڈھانک لیا اور مقتول زخموں سے کوفتہ کیا گیا مگر ابھی اس المقتول فدق بجروح، ولكن كانت فيه بقية ،روح، وقال احملوني | میں جان باقی تھی ۔ تب اس نے کہا کہ مجھے إلى دار الشفاء ، فحملوه وما ہسپتال میں لے چلو ۔ سو اس کو لے گئے اور وجدوا فيه أحدًا من الأطباء ، وہاں ڈاکٹر کو نہ پایا ۔ تب مقتول نے کہا فقال يا أسفي علی ،قسمتی، قد وائے میری قسمت میری بدبختی سے ڈاکٹر ۲۶) چاک زد بمثابه که روده با را از هم پرید و آن روز روز دوم از عید اضحی بود بر حسب آنچه در مواعید الهیه قرار یافته بود۔ وقاتل چون از کارش پرداخت آن خانه را بگذاشت و چون فرشته از دیده مردم پنہاں شد و تا کنون از دے اثر و خبری در دست نیست خدا داند به آسمان بالا شد یا خدایش در زیر چادر خود بپوشید - خلاصه مقتول اگر چه از ریش و آسیب از بس کوفته و خسته گردید ولی هنوز روان در تنش مانده بود عزیزان در رسیدند و در دار الشفاء بُردند ۔ ڈاکٹر یعنی طبیب آن زمان در اینجا نبود - مقتول زار نالید و گفت آن نگون بختی من ڈاکٹر ہم این جا قتل ليكهرام في اليوم الثانى من عيد الفطر۔ وكان يوم السبت 4 مارچ سنه ۱۸۹۷ء ، ۲ شوال ۱۳۱۴ من الهجرة المقدسة۔ منه سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ' عید الفطر ہونا چاہیے۔ عربی حاشیہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ (ناشر)