نجم الہدیٰ — Page 136
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۶ نجم الهدى من الإرادة، ووصلت حضرتک سستی نہیں کی ۔ مگر یہ بات ہے کہ چند شہے للاستفادة، بيد أني اسير في بعض میرے دل میں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں الشبهات، وأرجو أن تقيل لي که تو میری لغزش کو معاف کرے اور میرے عشاري وتكشف عقد المعضلات ، یہ عقدے حل کر دے ۔ پھر میں اسلام کو چھوڑ ثم أدخل فی دین آبائی و ترک کر اپنے باپ دادے کے دین میں داخل ہو الإسلام، فهذا هو الغرض وما أطول جاؤں گا۔ الكلام ۔ فأمعن ليكرام نظره في تب لیکھرام نے اس کو خوب غور سے توسمه و سرّح الطرف فی میسمه، دیکھا اور خدا تعالیٰ نے اس مسافر کا دلی ارادہ فلبس عليه أمره قدر الرحمن، وظن اس پر پوشیدہ کر دیا اور اس نے سمجھا کہ یہ سچا أنـــه مــن الــصـــادقين ومن الإخوان ۔ اور ہمارے بھائیوں میں سے ہے ۔سواس فتلقاه مُرحبًا وقال رجعت إلى دار نے مرحبا کہہ کر اس کو قبول کر لیا اور اس کے الفلاح، وامتزج به كالماء والراح، ساتھ یوں ملا جیسا کہ پانی اور شراب ملتے وأنزله في كنف الاهتمام و ہیں اور اپنی غمخواری کی پناہ میں اُس کو لے لیا تصدى له بالاعزاز والإكرام اور اعزاز اور اکرام کے ساتھ پیش آیا ۔ پیش تو آمده ام ۔ ہر چند مردم بمنع مرا پیش آمدند باز نیامدم و آهنگ چست خود راست نه نمودم ۔ بلے شکو کے چند در دلم خلجانے دارد ۔ امید دارم که از خطاء وزلت من در گذری و گره مرا بکشائی باز اسلام را ترک گفته کیش پدران را خواہم گزید۔ لیکھرام چوں ایں قصہ از وے بشنید سرا پائے ویرا نیکو بدید - و خدا نیت آں غریب را بر وے مستور کرد و اورا صادق گمان نمود ۔ خلاصہ مسئلت ویرا پذیرفت و باوے چوں شکر با شیر بیامیخت و قوم خود را در باره