نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 550

نجم الہدیٰ — Page 135

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۵ نجم الهدى واتت عليه السنة الخامسة من أيامه، اور پانچواں برس اس پیشگوئی کا گذر نے لگا تو وكان يضحك ويقيس إلهامي على یه اتفاق پیش آیا کہ ایک مسافر اس کے ملنے کے زور كلامه۔ اتفق أنه دخل عليه رجل لئے آیا اور ظاہر کیا کہ وہ ہندو اس کی قوم میں من المسافرين، وأظهر أنه كان من سے ہے اور کسی نے دھوکا دے کر اس کو مسلمان کر قومه الآريين، ثم أدخله فى الإسلام دیا تھا اور اب اُس کو اس حرکت سے ندامت بعض الخادعين، والآن جاء متندما پیدا ہوئی ہے اور اس لئے آیا ہے کہ تا پھر اپنے كالطالبين الخائفين، ويريد أن يرجع باپ دادا کے دین میں داخل ہو اور اسلام کو چھوڑ إلى دين آبائه ويترك المسلمین دے اور یہ کہہ کر پھر اس کی تعریف شروع کی کہ ومدحه وقال أنت كذا و كذا وللقوم تو ایسا اور ایسا ہے اور بہتوں کو تو نے خواب كالرأس، وأيقظت كثيرا من النعاس، غفلت سے جگایا ہے اور تیرے نام کی بہت وقد انتشر ذکرک و سمع کمالک شہرت ہو ئی ہے اور معلوم ہوا کہ اسلام کا رڈ في الرد على الإسلام، فجئتك من لکھنے میں تجھے کمال ہے اس لئے میں دور سے أقصى البلاد لأستفيض من فيضک تجھ سے فیض پانے کے لئے آیا ہوں ۔ اور التام۔ والناس منعوني فما استقلت لوگوں نے منع کیا مگر میں نے اپنے ارادے میں و سال پنجم بر خبر غیب سپری شد - چناں اتفاق افتاد که غر ہے برائے دیدنش رفت و وانمود که او ہندو نزا د واز اہل ملت وے می باشد - سالے چند است باغوائے بعضے ناکساں مسلمان شده بود حالا بر فعل خود پشیمان و ازاں حرکت دست تاسف گز آن بخدمت والا حاضر آمده که بر دست میمون تو به کند و دیگر مذهب آباء را بگزیند و پشت پا بر اسلام بزند ۔ ایس بگفت و در مدح و تمجیدش ترانه سنجیدن گرفت که تو چنانی و چنین که بسیاری را از خواب غفلت بیدار کردی و نام نامی تو شہر تے عجیب یافتہ ۔ ترا در رد اسلام ید طولی است ازین جاست که جهت استفاضه از راه دور