نجم الہدیٰ — Page 125
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۵ نجم الهدى أو يأخذ منى إقرار العجز عند هذه جب تک کہ بعض نشان نہ دیکھے اور یا جب تک السؤالات۔ وأصر على أن يؤانس آی کہ مجھ سے اقرار عجز نہ لے لیوے اور اس نے الله أمام ارتحاله، وكان جهولا غير اصرار کیا کہ اپنے جانے سے پہلے نشان دیکھے۔ متأدب في مقاله فطفق يبلطنى لرؤية اور وہ ایک جاہل بے ادب تھا ۔ پس اس نے الآية، ويخجأني من العماية، فإنه كان مجھے نشان کے لئے دق کرنا شروع کیا اور نا بینائی جسدا له خوار، وما أعطى له روح کی وجہ سے اصرار کرتا تھا کیونکہ وہ جسم بے جان فراسة ولا افتكار۔ وكان احتكاء في تھا جس کو عقل کی روح نہیں دی گئی تھی اور اس جنانه أن هذا الرجل كاذب في بيانه، کے دل میں یہ بیٹھ گیا تھا کہ یہ شخص اپنے بیان وکذالک انتقش في قلبه من خدع میں جھوٹا ہے اور یہ باتیں اس کے ہم صحبتوں نے أعوانه، وحـمـئـت بهم بئر عرفانه اس کے دل میں بٹھائی تھیں جن سے اُس کی ووافـــانــي ذات المرار، فألح علی شناخت کا کنواں مکدر ہو گیا تھا اور وہ ایک وأبلط بكمال الإصرار ، ونظر إلى دن میرے پاس آیا اور نشان کے دیکھنے کے شزرًا بالاستكبار، وقال إني لن أفارق لئے بڑا اصرار کیا اور میری طرف تکبر قادیان بیرون نخواهم شد یا داغ اعتراف بجز بر ناصیۂ شما خواهم گزاشت و بر این اصرار ورزید که لا بد است که قبل از رفتن از این جانشا نے مشاہدہ نماید و آں شخصے بود از علیہ ادب عاری۔ واز نهایت شوخی و خیرگی دست استبداد بد امن من زده چه او حقیقہ کا لبد بے روان بود که روح خرد در وے ندمیده بودند و گمان وے آن بود که من تار و پود دروغ بر بافته استم و این اعتقاد نسبت به من بعضے از هم مشر بانش خاطر نشان کردند ۔ لہذا چشمہ شناخت وے مکدر گردید ۔ خلاصہ عادتا روز پیش من آمد و جهت رویت نشا نے اصرار از حد بگذرانید و در من با دیده استکبار و استحقار