نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 550

نجم الہدیٰ — Page 126

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۶ نجم الهدى هذه القرية إلا وتُريني الآية أو تقر سے دیکھا اور کہا کہ میں اس گاؤں سے کبھی بکذبک و بما اخترت الفرية۔ وساء نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم نشان نہ دکھلاؤ الحضار ما اختار من غلظ وشدّة، اور یا اپنے جھوٹ کا اقرار نہ کرو اور فبردتهم بوصية صبر وتؤدة ، وكانوا حاضرین کو اُس کی سخت زبانی بُری معلوم من الذين أخذوا مربعی منتجعهم، ہوئی ۔ پس میں نے ان کو صبر کی وصیت و داری محضرهم، وحسبوا الهامی کے ساتھ ٹھنڈا کیا ۔ پھر میں نے اس کو کہا مرتعهم ومخبرهم۔ ثم قلت له يا هذا کہ اے شخص! نشان ایسی چیز تو نہیں جو إن الآية ليست كشيء ملقاة تحت قدموں کے نیچے پڑی ہو اور فی الفور دکھلا الأقدام لألقطه لک و اعطیک دی جائے ۔ بلکہ نشان خدا کے پاس ہیں كالخادم بالإكرام، بل الآيات عند الله جب چاہتا ہے دکھاتا ہے ۔ اور گاؤ دشتی يُرى إذا ما شاء ، ولا ينفع الوثب كشور کی طرح کو دنا مناسب نہیں ۔ پس لڑائی الوحش فإياك والمراء ، والصبر حقیق سے پر ہیز کر ۔ اور جوشخص نشانوں کو ڈھونڈتا لمن طلب آی الله وجاء يستقرى الضیاء ہے اس کے لئے صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ نگریست و گفت ابدا ازین ده نروم تا نشا نے از شما نه بینم یا شما سپر عجز بینگنید - حاضران از گفتار تلخ و درشتش بر نجیدند من از پند صبر آب بر آتش ایشاں زدم و بآخر او را نفتم اے فلان نشان چیزے نیست که پیش پا افتاده باشد یا حقه مشعبد نه که دراں انجو به نموده شود بلکه نشانها نزد خداست وقتے کہ می خواهد نشان می دہد و چوں گا ؤ دشتی تپیدن روا نیست از ستیز و آویز پر ہیز کن۔ ہر کہ طالب نشان باشد اور اصبر لازم است - چه نشان از طرف خدا نازل می گردد و