نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 550

نجم الہدیٰ — Page 124

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۴ نجم الهدى كان اسمه لیکھرام، وكان من قوم اور یہ شخص بڑا کینہ ور تھا اور اسلام پر اعتراض کیا عبدة الأصنام، وكان شديد الحقد کرتا تھا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں يعترض على الإسلام ويسب نبینا دیتا تھا۔ اس نبی پر خدا تعالیٰ کے ہزاروں سلام الأنام عليه ألف ألف سلام ہوں اور اس قصہ کی تفصیل یہ ہے کہ اس نے وتفصيل هذه القصة أنه سمع من بعض اپنے بھائیوں سے سنا کہ ایک آدمی قادیان بعض الإخوة أن رجلا فی القادیان میں ہے جو الہام کا دعوی کرتا ہے اور نیز کرامات يدعى الإلهام والكرامات، ويقول إن كا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ سچا دین اسلام ہی ہے الإسلام هو الدين عند الله ربّ اور جو اس کا مخالف ہے وہ باطل پر ہے۔سو وہ السماوات، ومن خالفه فهو من | اس خبر سے ہمیشہ تعجب کرتا تھا یہاں تک کہ ایک المبطلين۔ فمازال يُعجبه هذا الخبر مرتبہ اس نے قادیان آنے کا ارادہ کیا اور وہ حتـى قـصــد الـقـاديان ذات مرة وهو ان دنوں میں تھیں برس کی عمر میں تھا یا کچھ کم يومئذ ابن ثلاثين سنة، أو قليل منه جیسا کہ اس کے منہ کے دیکھنے سے ہمیں كما علمنا من وجهه فراسة۔ فجاء نى اندازاً معلوم ہوا ۔سو وہ میرے پاس آیا اور وسأل عن الآيات، وأظهر أنه لا يبرح نشانوں کے بارے میں مجھ سے سوال کیا اور الأرض أو يرى بعض خرق العادات ظاہر کیا کہ وہ کبھی قادیان سے نہیں جائے گا مرگ لیکرام است - این شخص بود کینه توز بر اسلام حمله با می کرد و نبی کریم ما را دشنام می داد و نا گفتنیها می گفت - تفصیل این مقال آنکه آن عدو اسلام از ابنائے جنس خود بشنید که شخصی در قادیان است که دعوی الہام و اظهار خرق عادات می دارد و می گوید که دین حق اسلام است و ماسواه باطل اواز شنیدن این قصه در شگفت می بود تا عزم آمدن در قادیان را تقسیم بداد و دران زمان جوان سی ساله بود یا بقدر بیش و کم بر وفق آنچہ آں وقت از روئے او ہویدا بود ۔ خلاصه آن برہمن در نزد من آمد و نشانی درخواست و گفت تا نشانی نه بینم زنهار از