نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 550

نجم الہدیٰ — Page 111

روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى والأمر كان كذالك لولا التأیید اور در حقیقت میں ایسا ہی تھا اگر خدا تعالیٰ کی تائید من حضرة الكبرياء، فالآن أُيّدت | میرے شامل حال نہ ہوتی۔ پس اب اللہ جل شانه من الحضرة، وعلمني ربي من لدنه نے میری تائید کی اور خاص فضل اور رحمت سے بـالـفـضـل والـرحمة، فأصبحت أديبا اپنے پاس سے میری تعلیم فرمائی۔ سواب میں ایک ادیب اور متفرد انسان ہو گیا اور میں نے کئی رسالے بلاغت اور فصاحت کا لباس پہنا کر ومن المتفرّدين۔ وألفت رسائل في حلل البلاغة والفصاحة، وهذه آية من تالیف کئے پس دانشمندوں اور منصفوں کے لئے ربى لأولى الألباب والنصفة، وعليكم میری طرف سے یہ ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ حجة الله ذی الجلال والعزة کی تم پر یہ حجت ہے۔ پس اگر تم میری سچائی اور فإن كنتم من المرتابين فى صدقی میری کمال زبان دانی میں شک رکھتے ہو اور وكمال لساني، والمتشككين في میرے بیان اور عمدہ طور پر اظہار مطالب میں حسن بیانی و تبیانی، ولا تؤمنون بآیتی تمہیں کچھ شبہ ہے اور میری اس شان پر العقيدة التي هي مشهورة بين المسلمين میں مشہور اور حدیثوں میں کئی مرتبہ اس کا ذکر وسمعتموها ذات المرار من المحدثين۔ آیا ہے وہ در حقیقت کشفی کلے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے۔ ان کی بقية الحاشية خير بقیه حاشیه فانما هي كلم كشفية خرجت من ) المرسلين۔ و اخطأ فيهما بعض المئولين۔ تاویل میں بعض لوگوں نے غلطی کھائی ہے اور وحملوها على ظواهرها و كانوا فيه | ان کو ان کے ظاہر پر حمل کر بیٹھے اور اس میں خطا خاطئين۔ والأن حصحص ا الحق و تراى | کی اور اب حق ظاہر ہو گیا اور طالبوں کے لئے راہ راست نمودار ہو گیا۔ منہ الصراط لقوم طالبين۔ منه و در حقیقت هم چنین بودم اگر فضل و رحمت خدا دست مرا نمی گرفت - اینک اکنون تائید ایزدی پشت مرا بکوفت و از محض فضل و کرم از خود مرا بیاموخت - چنانچه اکنوں اد ہے یگانہ گر دیدم و کتبے چند کہ از فصاحت و بلاغت مشحون اند تالیف و چاپ کردم و این نشانی است سترگ از برائے خر دوراں و دانشمندان و هم از خدا حجتے بر شما است و اگر نسبت بکمال ادب و راستی من هنوز در پندار و گمان استید