نجم الہدیٰ — Page 110
روحانی خزائن جلد ۱۴ 11 + نجم الهدى عرضتها على العلماء وقلت | میں نے اس ملک کے علماء پر وہ کتابیں پیش يا حزب الفضلاء والأدباء ! کیں اور کہا کہ اے فاضلو اور ادبیو! تمہارا إنكم حسبتمونى أُمَيَّا ومن الجهلاء ميرى نسبت یہ گمان تھا کہ میں امی اور جاہل ہوں هو شان الكمل من الامة وكذالك پائے ۔ ان پر اور ہمارے نبی پر سلام وجد ارثا من كمالات ابن مريم عليه | ہو ۔ اور جبکہ مسیح موعود کی حقیقت ان سلام الله وعلى نبينا الذي جعله دونوں مذکورہ حقیقوں میں غرق تھی اور الله اشرف واكرم۔ ولما كانت ان میں مفصل اور متلاشی تھے اور ان کی بقية الحاشية حقيقة المسيح الموعود معمورة في بقیه حاشیه صفتوں کے پیرو تھے اس لئے ان دونوں الحقيقتين المذكورتين۔ ومضمحلة | برگزیدوں کا نام اس پر غالب ہوا اور اس متلاشية فيهــمــا ومـنـعـدم الـعـيـن ومستتبعة لصفا تهما في الدارين۔ کا اپنا نام و نشان کچھ نہ رہا اور مغلوب معدوم ہو گیا اور غالب کا نام رہ گیا ۔ غلب عليها اسمهما ولم يبق منها اسم و رسم في الكونين۔ وانعدم المغلوب اور اس کے لئے آسمانوں پر ان دونوں و بقى فيه اسم الغالب و تقرر له في مبارکوں کے نام رہ گئے ۔ یہ وہ ستر ہے جس کو السماء اسم هذين المباركين۔ هذا ما - خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا اور اوقعه الله في بالي و تلقاه حدسی و خدا تعالیٰ کی طرف سے میری فراست نے فراستی من لدن ربي لاكمالى واما اس کو قبول کیا ۔ مگر وہ امر جو مسلمانوں و در پیش علماء این بلاد عرض نمودم و گفتم اے فضلاء واد با شما با نسبت بمن گمان داشتید که من مرد جاہل واقعی هستم مسیح موعود را خلاً تشریف آن شان عطا فرمودند تا اواز میں حلیه وطبیعت عاری مانده ازین کمال محروم نماند - زیرا که حرمان شایاں شان اطلال نمی باشد - آخر مسیح موعود از ان درخت میوه تازه و تر یافت و ظلیت نبوت در آب خودش غوطه بداد چنانچه شان کا ملان امت بوده بقیه حاشیه ست - منه