نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 550

نجم الہدیٰ — Page 112

روحانی خزائن جلد ۱۴ ١١٢ نجم الهدى هذه وتحسبونها ،هذیانی، وتزعمون ایمان نہیں اور گمان کرتے ہو کہ میں کا ذب أني في قولي هذا من الكاذبين فأتوا ہوں ۔ پس تم بھی کوئی ایسی کتاب بنا کر لاؤ اگر بكتاب من مثلها إن كنتم صادقين تم بے ہو۔ اور اگر تم حق پر ہو گے جیسا کہ تمہارا گمان ہے ۔ پس خدا تعالیٰ ضرور تمہاری وإن كان الحق عندكم كما أنكم عزت ظاہر کرے گا اور غالب ہو گے اور تمہیں تزعمون، فسيُبدى الله عزّتكم ولا تغلبون ولا ترجعون كالخاسرين، فلا | کچھ نقصان نہیں ہوگا ۔ پھر بعد اس کے کوئی عتاب کرنے والا تمہیں عتاب نہیں کرے گا يعاتبكم بعده معاتب، ولا يزدريكم | اور کوئی مخاطب عیب گیری پر قادر نہیں ہوگا اور مخاطب، ويستيقن الناس أنكم من لوگ یقین کر لیں گے کہ تم امین اور صالح ہو۔ الأمناء ومن الصالحين۔ وإن كنتم لا اور اگر تم بباعث قلت علم اور عقل کے مقابلہ کی تقدرون عليه لقلة العلم والدهاء، قدرت نہیں رکھتے ۔ پس اٹھو اور ان لوگوں فانهضوا وادعوا مشهورين منكم کو بلا لو جو تحریر اور تقریر میں تم میں مشہور ہیں بالتكلـم والإملاء ، والمعروفين من اور ادیب ہونے میں شہرت رکھتے ہیں اور الأدباء۔ وإني عرضت عليكم أمرا میں نے ایسا امر تم پر پیش کیا ہے جس میں فيه عزة الصادق وذلّة الكاذب، بچے کی عزت اور جھوٹے کی ذلت ہے و بیان و تبیان مرا نچشم انکار می بینید و بایس نشان من ایمان نمی آرید - وایس را ہرزہ درائی و ژاثر خائی بر می شمارید لازم کہ کتا بے مثل آن بیارید اگر ہوئے از راستی دارید ۔ و اگر شمار است استید بر وفق آنچه می پندارید البته خدا دست شما را بالا کند و بزرگی شما پدیدار گردد و زیانے بشما نہ رسد و پس ازاں ۲۱ پیچ نکو ہندہ شمار انفرین نکند و مخاطبے در پئے خورده گیری شما نشود و مردم خواهند دانست که شما در حقیقت امانت گزار و راست کار هستید و اگر شما به سبب قلت علم و عقل مرد میدان مقابله نیستید برخیزید و آن مردمان را جمع آرید که در تحریر و تقریر از میانه شما سر بر آورده و نامی می باشند و بر ادب ناز با دارند - ومن امر در پیش شما اظہار کردم که باعث بر عزت صادق وذلت کاذب خواهد بود