منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 581

منن الرحمٰن — Page 153

۱۵۳ روحانی خزائن جلد ؟ منن الرحمن ويبغى رحمه كل زائغ و سامت۔ و هو رب العالمين له الحمد والمجد وهو اور ہر یک سج رو اور راست رواس کا رحم طلب کرتا ہے اور وہ رب العالمین ہے اسی کے لئے تعریف اور بزرگی مسلم ہے اور وہ بقیه حاشیه : کے لئے مسلم نہیں اور سید لخت عرب میں اُس کو کہتے ہیں جس کا تابع ایک ایسا سواد اعظم ہو جو اپنے دلی جوش اور اپنی طبعی اطاعت سے اس کے حلقہ بگوش ہوں سو بادشاہ اور سید میں یہ فرق ہے کہ بادشاہ سیاست قہری اور اپنے قوانین کی سختی سے لوگوں کو مطیع بناتا ہے اور سید کے تابعین اپنی دلی محبت اور دلی جوش اور دلی تحریک سے خود بخود متابعت کرتے ہیں اور کچی محبت سے اس کو سید نا کر کے پکارتے ہیں اور ایسی متابعت بادشاہ کی اس وقت کی جاتی ہے کہ جب وہ بھی لوگوں کی نظر میں سید قرار پاوے۔ غرض سید کا لفظ بھی حقیقی طور پر بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالی کے کسی دوسرے پر بولا نہیں جاتا کیونکہ حقیقی اور واقعی جوش سے اطاعت جس کے ساتھ کوئی شائبہ اغراض نفسانیہ کا نہ ہو بجز خدا تعالی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ وہی ایک ہے جس کی بھی اطاعت روحیں کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کی پیدائش کا حقیقی مبدا ہے۔ اس لئے طبعاً ہر یک روح اس کو سجدہ کرتی ہے بت پرست اور انسان پرست بھی اس کی اطاعت کے لئے ایسا ہی جوش رکھتے ہیں جیسا کہ ایک موحد راستباز نگر انہوں نے اپنی غلطی سے اور قصور طلب سے اس زندگی کے بچے چشمہ کو شناخت نہیں کیا بلکہ نابینائی کی وجہ سے اس اندرونی جوش کو غیر محل پر وضع کر دیا تب کسی نے پتھروں کو اور کسی نے رام چندر کو اور کسی نے کرشن کو اور کسی نے نعوذ باللہ ابن مریم کو خدا بنا لیا۔ لیکن اس دھوکہ سے بنایا کہ شاید وہ جو مطلوب ہے یہ وہی ہے۔ سو یہ لوگ مخلوق کو حق اللہ دے کر ہلاک ہو گئے ۔ ایسا ہی اس حقیقی محبوب اور سید کی روحانی طلب میں ہوا پرستوں نے دھو کے کھائے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں بھی ایک محبوب اور ایک حقیقی سید کی طلب تھی مگر انہوں نے اپنے دلی خیالات کو اچھی طرح شناخت نہ کر کے یہ خیال کیا کہ وہ حقیقی محبوب اور سید جس کو روحیں طلب کر رہی ہیں اور جس کی اطاعت کے لئے جانیں اچھل رہی ہیں وہ دنیا کے مال اور دنیا کے املاک اور دنیا کی لذات ہی ہیں مگر یہ ان کی غلطی تھی بلکہ روحانی خواہشوں کا محرک اور پاک جذبات کا باعث وہی ایک ذات ہے جس نے فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ا یعنی جن اور انس کی پیدائش اور ان کی تمام قومی کا میں ہی مقصود ہوں وہ اسی لئے میں نے پیدا کئے کہ تا مجھے پہچانیں اور میری عبادت کریں سو اس نے اس آیت میں اشارہ کیا کہ جن وانس کی خلقت میں اس کی طلب و معرفت اور اطاعت کا (9) مادہ رکھا گیا ہے اگر انسان میں یہ مادہ نہ ہوتا تو نہ دنیا میں ہوا پر ستی ہوتی نہ بت پرستی نہ انسان پرستی کیونکہ ہر یک خطا الذاریات: ۵۷