منن الرحمٰن — Page 154
روحانی خزائن جلد ؟ ۱۵۴ منن الرحمن مولى النعم في الاولى والأخرة۔ والصلوة والسّلام على رسوله سيد الرسل دونوں جہانوں میں آقائے نعمت ہے۔ اور سلام اور صلوٰۃ اس کے رسول پر جو رسولوں کا سردار بقیه حاشیه : صواب کی تلاش میں پیدا ہوا ہے۔ غرض سیادت حقیقی اُسی ذات کے لئے مسلّم ہے اور وہی واقعی طور پر سید ہے ۔ اور مجملہ ان تین ناموں کے جو خدا تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں مدبر بھی ہے اور تدبیر کے معنی ہیں کہ کسی کام کے کرنے کے وقت تمام ایسا سلسلہ نظر کے سامنے حاضر ہو جو گذشتہ واقعات کے متعلق یا آئندہ نتائج کے متعلق ہے اور اس سلسلہ کے لحاظ سے وضع شئ فــي مـحـلــہ ہوا ور کوئی کارروائی حکمت عملی سے باہر نہ ہو اور یہ نام بھی اپنے حقیقی معنوں کی رو سے بجز خدا تعالی کے کسی غیر پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ کامل تر پیر غیب دانی پر موقوف ہے اور وہ بجز خدا تعالیٰ کے کسی کے لئے مسلم نہیں۔ اور چار باقی نام یعنی مربی قيم۔ منعم۔ متمم - خدا تعالی کے ان فیوض پر دلالت کرتے ہیں جو بلحاظ اس کی کامل ملکیت اور کامل سیادت اور کامل تدبیر کے اُس کے بندوں پر جاری ہیں ۔ چنانچہ مربی کا لفظ بظا ہر معنی پرورش کرنے والے کو کہتے ہیں اور کامل طور پر تربیت کی حقیقت یہ ہے کہ جس قدر خلقت انسان کے شعبے باعتبار جسم اور روح اور تمام طاقتوں اور قوتوں کے پائے جاتے ہیں ان تمام شاخوں کی پرورش ہو اور جہاں تک بشریت کی جسمانی اور روحانی ترقیات اس پرورش کے کمال کو چاہتے ہیں ان تمام مراتب تک پرورش کا سلسلہ محمد ہوا ایسا ہی جس نقطہ سے بشریت کا نام اور اسم یا اس کے مبادی شروع ہوتے ہیں اور جہاں سے بشری نقش یا کسی دوسری مخلوق کا نقش وجود عدم سے ہستی کی طرف حرکت کرتا ہے اس اظہار اور ابراز کا نام بھی پرورش ہے پس اس سے معلوم ہوا کہ لغت عرب کے رو سے ربوبیت کے معنے نہایت ہی وسیع ہیں اور عدم کے نقطہ سے مخلوق کے کمال تام کے نقطہ تک ربوبیت کا لفظ ہی اطلاق پاتا ہے اور خالق وغیرہ الفاظ رب کے اسم کی فرع ہیں اور قیم کے معنی ہیں نظام کو محفوظ رکھنے والا اور منعم کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک قسم کا انعام اکرام جو انسان یا کوئی دوسری مخلوق اپنی استعداد کی رو سے پا سکتی ہے اور بالطبع اس نعمت کے خواہاں ہے وہ انعام اس کو عطا کرے تاہر یک مخلوق اپنے کمال تام کو پہنچ جائے جیسا کہ اللہ جل شانه ایک جگہ فرماتا ہے رَبَّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْ خَلْقَهُ ثُمَّهَلی لے یعنی وہ خدا جس نے ہر ایک چیز کو اس کے مناسب حال کمال خلقت بخشا اور پھر اس کو دوسرے کمالات مطلوبہ کے لئے رہنمائی کی پس طه : ۵۱