منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 581

منن الرحمٰن — Page 152

۱۵۲ روحانی خزائن جلد ؟ منن الرحمن ما يشاء وكل يوم هو في شان۔ يُسبّح لــه كـل نـاطـق وصــامـت ۔ کرتا ہے اور ہر ایک دن وہ ایک کام میں ہے۔ ہریک بولنے والا اور نہ بولنے والا اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔ بقیہ حاشیہ : کام لیا ہے جو عقل سلیم فی الفور گواہی دیتی ہے کہ سیا مکمل اور اتم سلسلہ مفردات کا اسی لئے عربی میں مقرر کیا گیا تھا کہ تا قرآن کا خادم ہو یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ مفردات کا قرآن کریم سے تعلیمی نظام سے جو اکمل اور اتم ہے بالکل مطابق آگیا لیکن دوسری زبانوں کے مفردات کا سلسلہ ان کتابوں سے تعلیمی نظام سے ہرگز مطابق نہیں آتا جو الہی کتا بیں کہلاتی ہیں اور جن کا ان زبانوں میں نازل ہونا بیان کیا گیا اور نہ دوائر عشرہ مذکورہ ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں ۔ پس ان کتابوں کے ناقص ہونے کی وجوہ سے یہ بھی ایک بھاری وجہ ہے کہ وہ دوائر ضروریہ سے بے بہرہ اور نیز زبان کے مفردات ان کتابوں کی تعلیم سے وفا نہیں کر سکے اور اس میں بھید یہی ہے کہ وہ کتابیں حقیقی کتابیں نہیں تھیں بلکہ وہ صرف چند روزہ کا رروائی تھی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی جو ہمیشہ کے لئے انسانوں کی بھلائی کے لئے تھی لہذاوہ دوائر عشرہ کاملہ کے ساتھ نازل ہوئی اور اس کے مفردات کا نظام تعلیمی نظام کا بالکل ہموزن اور ہم پلہ تھا اور ہر ایک دائرہ اس کا دوائر عشرہ میں سے اپنے طبیعی نظام کے اندازہ اور قدر پر مفردات کا نظام ساتھ رکھتا تھا جس میں الہی صفات کے اظہار کے لئے اور اقسام اربعہ مذکورہ کے مدارج بیان کرنے کی غرض سے الگ الگ الفاظ مفردہ مقرر تھے اور ہر ایک تعلیم کے دائرہ کے موافق مفردات کا کامل دائرہ موجود تھا۔ اب ہم اسی پر اکتفا کر کے ایک اور لفظ کی چند خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ سو وہ لفظ رب کا ہے جو قرآنی الفاظ میں سے ہم نے لیا ہے ۔ یہ لفظ قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ اور پہلی ہی آیت میں آتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے الحمد لله رب العالمين - لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔ مالک سید مدیر مربى فيه منعم منمم پرمش قیم۔ متمم چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے مالک ہے اور ما لک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ نامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لاسکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالی کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیوں کہ قبضہ نامہ اور تصرف نام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی