معیارالمذاہب — Page 498
۔دل سوائے اس (اصلی) خدا کے کسی اور کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔شروع سے انسانی فطرت اسی طرح واقع ہوئی ہے۔کینہ اور تعصب کی راہ کو چھوڑ دے صدق سے غور کر اور روشن دل ہو جا۔کینہ اور تعصب عقل کے باغ کو اجاڑ دیتے ہیں اور عقلمندوں کو گمراہ اور بیوقوف بنا دیتے ہیں۔ایک انسان کس طرح غیر فانی خدا بن سکتا ہے اے گمراہی کے شکار جھگڑا نہ کر صفحہ ۲۵۴۔اے عزیز تیرے ہاتھ میں صرف کھاری پانی ہے۔اگر تجھ میں تمیز ہے تو شیخیاں نہ مار۔تو ہلاک ہو جائے گا اگر اس خدا کو تلاش نہ کرے گا جسے زمین وآسمان تجھے دکھا رہے ہیں۔تو قرآن سے بھی اُس قادر خدا کا حسن دیکھ خدا کا قول اور خدا کا فعل ایک ہی تالاب کے مصفا پانی ہیں۔میں تو اس بات کے غم سے مر گیا کہ خلقت اس چشمہ کو کیوں طلب نہیں کرتی۔قرآن دین کے راستہ کا رہنما ہے اور مذہب کی سب ضروریات کو پورا کرنے والا ہے۔وہ اہل حق جو فانی ہیں۔وہ فرقانی چشمے سے پانی پینے والے ہیں۔وہ نام نمود اور جاہ اور عزت کی طرف سے بے پروا ہیں، ان کے ہاتھ سے دل اور سر سے ٹوپی گر گئی ہے۔خودی سے دور اور یار سے واصل ہو گئے ہیں اور اس کی خاطر اپنی عزت وآبرو سے دستبردار ہیں۔ظاہراً اجنبی دکھائی دیتے ہیں مگر دل یار کی محبت سے بھرا ہے، خدا کے سوا اُن کا بھید کوئی نہیں جانتا۔اُن کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے خدا کے لئے انہوں نے صدق ووفا اختیار کیا ہے۔ان سب لوگوں کا رہنما قرآن ہی تھا اور اسی دروازہ کی برکت سے ان میں سے ہر ایک موتی کی طرح ہو گیا۔ان سب نے اُسی محبوب سے زندگی حاصل کی۔زندگی کیا خود اُس محبوب کو پا لیا۔اُن کی نظر شرک اور فساد سے پاک ہو گئی اور اُن کا دل ربّ العالمین کا گھر بن گیا۔اُن لوگوں کا سردار وہ ہے جس کا نام مصطفی ہے تمام اہل صدق وصفا کا وہی رہنما ہے۔اُس کے چہرہ میں خدا کا چہرہ چمکتا نظر آتا ہے اُس کے درو دیوار سے خد اکی خوشبو آتی ہے۔رہبری کے تمام کمالات اُس پر ختم ہیں خود بھی مقدس ہے اور سب مقدسوں کا امام ہے۔اے خدا!اے ہماری تکلیفوں کی دوا ہمارے معاملہ میں اُس کی شفاعت ہمیں نصیب کر