معیارالمذاہب — Page 497
۔اس قدر بڑھ بڑھ کر کیوں افترا باندھتا ہے شاید تو اُس بے مثل ذات سے منکر ہے۔اس ذلیل دنیا سے کیوں دل لگاتا ہے جہاں سے تو یک دم باہر چلا جائے گا۔دنیا کی خاطر خدا سے تعلق توڑنا یہی بدبختوں کی علامت ہے۔جب کسی پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تو اس کا دل دنیا میں کچھ زیادہ نہیں لگتا صفحہ ۲۵۳۔لیکن ترکِ نفس بھی آسان نہیں۔مرنا اور خودی کا چھوڑنا برابر ہے۔اس خدا نے اپنے تئیں اپنے افعال سے ظاہر کیا اور انہیں اپنے کلام کا گواہ قرار دیا۔اس کے علاوہ جو اور حسن اس کی ذات میں تھا اس کا حلیہ بھی اس نے (بذریعہ کلام) ہمارے سامنے کھینچ دیا۔تو اپنی طرف سے اس کی تصویر کھینچتا ہے اور اے بدباطن آپ اُس کا خالق بنتا ہے۔وہ جو اپنے فعل سے اپنا جلوہ دکھا رہا ہے، خدا وہ ہے، نہ کہ وہ جسے ہمارے ہاتھوں نے بنایا ہے۔اے ظالم ہمارا مولا وہی ہے جس کی تعریف قرآن نے جابجا کی ہے۔جو کچھ قرآن نے کہا وہی آسمان بھی کہتا ہے، آنکھ کھول تا کہ تو اس روشنی کو دیکھے۔اسلام کو یہی فخر تو حاصل ہے کہ وہ اُس کامل خدا کو پیش کرتا ہے۔وہ اسی طرح کہتا ہے جو اس کی صنعت سے ظاہر ہے۔دوسروں کی طرح اپنے پاس سے کوئی خدا نہیں تراشتا۔غیر مسلم اس کے وجود کو خود تراشتا ہے۔وہ آپ ہی اُس کا قد اور پیر اور سر تجویز کرتا ہے۔یہ خود تراشیدہ وجود خدا نہیں ہو سکتا وہ تو بچوں کا کھلونا ہے اور جھوٹ۔اس خدا تراشی کی وجہ سے ایک جہان برباد ہو گیا اور کسی کو سچے خدا کا راستہ نہیں ملا۔جب تو اندھا نہیں ہے تو آنکھیں کھول اور دیکھ کہ آسمان وزمین کیا ظاہر کرتے ہیں۔ہر طرف یہی آواز آتی ہے کہ ایک قادر خدا ہے ایک صاحب جلال، صاحب عزت اور روشنی بخش نور موجود ہے۔تو کسی مخلوق کو اپنا خدا نہ بنا۔ایک کیڑا کیونکر اُس قدیر کی طرح ہو سکتا ہے۔اُس کے آگے زمین وآسمان لرزتے ہیں پس تو ایک مُشتِ خاک کو اُس کی طرح نہ سمجھ۔اگر تو کسی کمزور مخلوق کو زبردستی خدا کہہ بھی دے تو خود تیرا دل بول اٹھے گا کہ تو جھوٹا اور اندھا ہے