معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 581

معیارالمذاہب — Page 499

۔جس کے جان ودل میں اُس کی محبت داخل ہو جاتی ہے تو یکدم اُس کے ایمان میں ایک جان پڑ جاتی ہے۔وہ کوا اندھیرے سے کب نکل سکتا ہے جو اس صدق وصواب کے طلوع کے مقام سے بھاگتا ہے۔وہ شخص جسے تاریکی گھیر لے اُس کے لئے احمد کے چہرہ کی طرح اور کوئی چاند سورج نہیں ہے۔اُس کا پیرو معرفت کا ایک سمندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی ہو جاتا ہے صفحہ ۲۵۵۔جس نے محمدؐ کے طریقہ پر قدم مارا وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے۔تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے۔اے وہ شخص کہ تجھے عیسیٰ پر فخر اور ناز ہے اور خدا کا ایک عاجز بندہ تیری نظر میں خدا ہے۔تجھے خدائے شفیق بھول گیا اور تو عیسیٰ کے آگے سجدہ میں گر گیا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسی عقل اور ذہانت ہے کہ ایک بندہ کو خدا بنایا جائے۔فانی انسانوں کو خدا سے کیا نسبت اُس کی صفت تو کامل ہونا اور ہمیشہ رہنا ہے۔وہ بندوں کا چارہ گر اور خدائے قادر ہے جس پر کبھی بھی فنا نہیں آسکتی۔حفاظت کرنے والا، پردہ پوش، سخی اور کریم ہے بے کسوں کا دوست بے حد رحم کرنے والا اور مہربان۔تو اس خدائے پاک کا جلال کیا جان سکتا ہے وہ عزت کا مقام تو تو نے ایک خاکی انسان کو دے رکھا ہے۔تو ہر دم کفارہ کی شیخیاں ہی بگھارتا رہتا ہے پس تو مردنہیں بلکہ عورت سے بھی گیا گزرا ہے۔یہ تو بڑا آسان نسخہ ہے کہ سزا ملے زید کواور بکر اپنے گناہ سے پاک ہو جائے۔لیکن اس نسخہ کا تجھے نام ونشان بھی نہیں ملے گا زمین وآسمان) کی کتاب(کے ورقوں میں۔جب سے خدا نے اِس دنیا کی بنیاد رکھی ہے اُس وقت سے ظالموں کو بھی ایسی شرارت سے عار آتی ہے۔جب ایک فاسق بھی اس بات کو ناپسند کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جو پاک ہے وہ اسے کس طرح پسند کر سکتا ہے۔ہم گنہگار بھی ہیں اور (معافی کے لئے) روتے بھی ہیں (اسی طرح)وہ غیرت مند بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ہم میں زہر اور تریاق دونوں مخفی ہیں، وہ قتل کرتا ہے اور یہ دوسری زندگی بخشتا ہے۔تو نے زہر کو تو دیکھ لیا مگر اس کا علاج نہ دیکھا جو ہمیشہ سے اس کا کفارہ ہے