معیارالمذاہب — Page 496
۔تا کہ تو اس خدائے پاک کو پہچانے جو دنیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔تا کہ خدا کی وحی کے لئے یہ بطور معیار کے ہوتا کہ تو ہزاروں کلاموں میں سے پہچان لے کہ کون سا اس کی طرف سے ہے صفحہ ۲۵۲۔تا کہ خیانت کا کوئی راستہ کھلا نہ رہے اور نور تاریکی سے الگ ہو جائے۔بس وہی ہوا جو اس خدا کا منشا تھا اور اُس کا کام اُس کے کلام کا گواہ قرار پایا۔مشرک لوگ جو بہانے کرتے ہیں یہ گواہ (قولِ خدا اور فعلِ خدا) ان عذرات کو تیروں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔اگر تو کسی اور کو خدائے رحمان کہہ دے تو تیرے منہ پر زمین وآسمان تھوکیں۔اور اگر اُس یکتا کے لئے تو کوئی بیٹا تجویز کرے تو نیچے اور اوپر سے تجھ پر لعنتیں برسنے لگیں۔یہ جہان زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ خدا یکتا قیوم اور واحد ہے۔نہ اُس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ بیوی اور نہ ازل سے اس میں کوئی تغیرآیا۔اگر ایک لحظ کے لئے بھی اس کے فیض کی بارش کم ہو جائے تو یہ سب مخلوقات اور جہان درہم برہم ہوجائیں۔قانونِ قدرت پر ایک نظر ڈال تا کہ تو ربّ العالمین کی شان کو پہچانے۔کاخِ دنیا کی پائداری ہی کیا ہے؟ جو اُس کی خاطر تو سچائی کو چھوڑتا ہے۔عابد وہ ہے جو خدا کے سامنے فانی ہے، عارف وہ ہے جو کہتا ہے کہ وہ لاثانی ہے۔جھوٹ اور بہانہ بازی چھوڑ دے۔سچ کی طرف رغبت کرنا تجھے کیوں حرام ہو گیا۔غلط راستے کو تو نے صحیح سمجھ لیا ہے، تجھے خدا ہدایت دے کیسا غلط سمجھا ہے۔وہ خدائے واحد اپنا چہرہ خود دکھاتا ہے، تو بچوں کی طرح اس کی تصویر) اپنے دل سے(کھینچتا ہے۔وہ چہرہ جسے خدا کے فعل نے ظاہر کیا ہے اصل میں وہی خدا کا چہرہ ہے۔لیکن جو تو نے خود تراشا ہے وہ تیرے راستہ میں ایک بت ہے اور تو صبح وشام بت پرستی کرتا ہے۔اے وہ جس نے اس کے نور) یعنی اس کے کلام(سے اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں تو اس کے فعل میں اس کا چہرہ کیوں نہیں دیکھتا